علاقائی تجارت کے فروغ، وسطی ایشیا کے ساتھ اقتصادی رابطوں کو مستحکم کرنے اور پاکستان اور ازبکستان تجارتی معاہدہ کے ذریعے دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے حکومتِ پاکستان نے ایک اور بڑا اور خوش آئند قدم اٹھایا ہے۔ وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے باضابطہ طور پر ازبکستان سے آنے والی مخصوص درآمدی اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اقدام دونوں برادر ممالک کے درمیان طے پانے والے ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد پاکستانی مارکیٹ میں ازبک مصنوعات کی رسائی کو آسان بنانا اور ازبکستان کے راستੇ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے پاکستانی برآمدات کے دروازے مزید کھولنا ہے۔
دوطرفہ تجارت کا فروغ اور ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA)
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان معاشی تعلقات گزشتہ چند سالوں سے انتہائی تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں۔ ازبکستان کے صدر کے دورہ پاکستان اور دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والے فیصلوں کی روشنی میں تجارتی حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا رہا ہے۔
اس نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت:
مخصوص اشیاء پر ڈیوٹی میں کمی: زرعی اجناس، ٹیکسٹائل کے خام مال، پھلوں، اور چند منتخب صنعتی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی کے نرخوں میں 20 سے 50 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔
تجارتی حجم میں اضافہ: دونوں ممالک نے آنے والے سالوں میں باہمی تجارت کے ہدف کو اربوں ڈالرز تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
کسٹمز تعاون: دونوں ممالک کی کسٹمز انتظامیہ نے انفارمیشن شیئرنگ اور بارڈر پر کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے کے لیے انتظامی معاونت کے معاہدوں کو بھی حتمی شکل دی ہے۔
پاکستان اور ازبکستان تجارتی معاہدہ: ٹرانزٹ ٹریڈ اور لاجسٹکس کے فوائد
وسطی ایشیا ایک خشکی سے گھرا ہوا خطہ ہے اور ازبکستان کے لیے بحیرہ عرب کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل کرنے کا سب سے بہترین اور مختصر ترین راستہ پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے۔ درآمدی ڈیوٹی میں اس کمی کے بدلے ازبک حکومت بھی پاکستانی برآمدات کے لیے ٹیرف میں نرمی اور سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
اس تجارتی اشتراک سے لاجسٹکس کے شعبے کو درج ذیل فوائد حاصل ہوں گے:
ازبک-افغان-پاکستان ریلوے پروجیکٹ: اس سٹریٹجک ریلوے کوریڈور کی تکمیل سے مال برداری کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور تجارتی قافلے کم ترین وقت میں اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے۔
اسٹوریج اور گوداموں کا قیام: دونوں اطراف سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ کاروباری برادری کو بارڈر سٹیشنز پر جدید گودام اور کولڈ سٹوریج کی سہولیات مل سکیں۔
سپلائی چین کی بہتری: ڈیوٹی کم ہونے سے اشیائے خورونوش اور خام مال سستا ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے مینوفیکچرنگ سیکٹرز کو براہِ راست ریلیف ملے گا۔
کاروباری برادری اور مینوفیکچررز کے لیے نئے مواقع
ازبکستان سے درآمدات پر ڈیوٹی گھٹانے کے اس حکومتی فیصلے کا پاکستان کی کاروباری برادری، ایوانِ صنعت و تجارت اور صنعت کاروں کی طرف سے خیرمقدم کیا گیا ہے۔ پاکستان کے ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل سیکٹرز کو ازبکستان سے سستا خام مال ملنے کی توقع ہے جس سے پاکستانی برآمدات کی عالمی مارکیٹ میں مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی۔
ایف بی آر حکام کے مطابق اس قسم کے دوطرفہ تجارتی معاہدے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور ریونیو کے متبادل ذرائع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاجروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ نئے کسٹمز ٹیرف اور ڈیوٹی سلیبز کے بارے میں پاکستان کسٹمز پورٹل سے مکمل معلومات حاصل کریں۔






