پنجاب کی معاشی ترقی اور بلیو اکانومی کو فروغ دینے کے لیے صوبائی حکومت نے تاریخ کے سب سے بڑے اور انقلابی منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں صوبے بھر کی غیر استعمال شدہ اور بنجر زمینوں کو ایک نئی برآمدی صنعت میں تبدیل کرنے کے لیے اب تک کا سب سے بڑا شرمپ فارمنگ پروجیکٹ (جھینگا پروری کا منصوبہ) لانچ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مقامی سطح پر مچھلی اور جھینگے کی پیداوار بڑھا کر اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمد کرنا اور قیمتی زر مبادلہ کمانا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کی معاونت سے کیے گئے ایک جامع سائنسی سروے کے بعد پنجاب بھر میں جھینگا پروری کے لیے تقریباً 40,000 موزوں مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس سروے کی روشنی میں حکومت نے اصولی طور پر صوبے کے 30,000 ایکڑ اراضی پر جدید شرمپ فارمز تیار کرنے کے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی ہے۔
علی والا میں ہچری، تشخیصی لیبارٹری اور پروسیسنگ پلانٹس کا قیام
اس عظیم الشان منصوبے کے پہلے بڑے بنیادی ڈھانچے کے لیے ملتان کے قریبی علاقے علی والا کا انتخاب کیا گیا ہے۔ علی والا میں 5,300 ایکڑ اراضی پر ایک بہت بڑی ماڈرن ہچری قائم کی جا رہی ہے جس میں 737 تالاب (شامل ہوں گے۔ اس اسٹیٹ آف دی آرٹ ہچری کی سالانہ پیداواری صلاحیت 28 کروڑ (280 ملین) جھینگے پیدا کرنے کی ہوگی۔
صرف یہی نہیں، بلکہ جھینگوں کو برآمدی معیار کے مطابق پیک اور محفوظ کرنے کے لیے اسی مقام پر دو بڑے پروسیسنگ پلانٹس بھی لگائے جا رہے ہیں:
پہلا پروسیسنگ پلانٹ: 10 ٹن فی گھنٹہ جھینگا پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دویسرا پروسیسنگ پلانٹ: 5 ٹن فی گھنٹہ مال تیار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
اس کے علاوہ علی والا میں ایک جدید تشخیصی لیبارٹری اور جدید ترین ٹریننگ سینٹر بھی بنائی جا رہی ہے۔ اس لیبارٹری میں کیمسٹری، پیتھالوجی اور مائیکرو بائیولوجی کی عالمی معیار کی سہولیات موجود ہوں گی، تاکہ جھینگوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
شاہ گڑھ میں پاکستان کا پہلا ایکوا کلچر مال اور تکنیکی مانیٹرنگ
حکومت پنجاب صرف فارم ہی نہیں بنا رہی بلکہ کسانوں کی سہولت کے لیے شاہ گڑھ کے مقام پر پاکستان کا پہلا ایکوا کلچر مال قائم کر رہی ہے۔ یہ مال جھینگا پالنے والے زمینداروں کے لیے ون اسٹاپ شاپ کا کام کرے گا جہاں انہیں اعلیٰ معیار کا جھینگا بیج (Seed)، فیڈ (خوراک) اور کرائے پر حاصل کرنے کے لیے جدید مشینری آسانی سے دستیاب ہوگی۔
اس شرمپ فارمنگ پروجیکٹ کے تحت پنجاب میں پہلی بار جدید ترین خودکار مشینری متعارف کرائی جا رہی ہے۔ ان میں خودکار ہارویسٹرز اور آٹو فیڈرز کے ساتھ ساتھ چوبیس گھنٹے نگرانی کرنے والے ماڈرن مانیٹرنگ سسٹمز شامل ہیں۔ شاہ گڑھ میں کیے گئے کامیاب تجرباتی ٹرائلز کے دوران اس ٹیکنالوجی کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں، جبکہ اب تک 100 سے زائد مقامی افراد کو جدید جھینگا پروری کی تکنیکی تربیت بھی دی جا چکی ہے۔
مظفر گڑھ اور سرگودھا میں تجرباتی پیداوار کا آغاز
پنجاب میں جھینگا پروری کی سرگرمیاں باقاعدہ طور پر تیز کر دی گئی ہیں۔ اس وقت صوبے کے مختلف اضلاع میں تقریباً 5,500 ایکڑ رقبے پر قائم 1,000 سے زائد فارمز پر کام شروع ہو چکا ہے جبکہ مظفر گڑھ اور سرگودھا میں اس کی تجرباتی پیداوار کامیابی سے جاری ہے۔
حکومت نے اس منصوبے کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے سرگودھا میں 500 ایکڑ رقبے پر ایک نیا ماڈل فارم بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں 167 تالاب شامل ہوں گے۔ یہ منصوبہ پنجاب کے کسانوں کو روایتی فصلوں (گندم، کپاس) سے ہٹ کر ایک انتہائی منافع بخش متبادل فراہم کرے گا جس سے دیہی علاقوں میں غربت کا خاتمہ ہوگا اور کسان خوشحال ہوں گے۔
نجی شعبے کی شمولیت اور ہائبرڈ سولر انرجی سسٹمز کا نفاذ
اس پروجیکٹ کو مالی طور پر خود کفیل بنانے اور اس کی کارکردگی بڑھانے کے لیے حکومت پنجاب نے ایک جامع پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا منصوبہ بنایا ہے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ وہ اس منصوبے میں نجی شعبے کو بتدریج شامل کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل گریجویٹس اور مقامی کسانوں کو بھی اس پروجیکٹ کا فعال حصہ بنایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
جھینگا فارمز کی بجلی کی بھاری ضروریات کو پورا کرنے اور آپریشنل اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایک پائیدار ماڈل اپنایا گیا ہے۔ ان تمام فارمز پر ہائبرڈ سولر انرجی سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔ یہ ماحول دوست بجلی کا نظام چوبیس گھنٹے فارمز کو سستی اور بلاتعطل بجلی فراہم کرے گا جس سے کسانوں کا ڈیزل اور روایتی بجلی پر انحصار ختم ہو جائے گا اور یہ پروجیکٹ ماحولیاتی تحفظ کے عالمی معیارات کے مطابق کام کرے گا۔






