پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تاریخ میں پہلی بار براہ راست فرسٹ مال گاڑی سروس شروع کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ خوروف کے مطابق یہ ریلوے روٹ دارالحکومت ماسکو کو پاکستان کے اہم صنعتی اور تجارتی شہروں یعنی کراچی اور فیصل آباد سے دونوں طرف منسلک کرے گا۔ اس تاریخی منصوبے کا مقصد وسطی ایشیا اور یوریشین خطے کے درمیان ایک نیا اور محفوظ زمینی تجارتی راہداری قائم کرنا ہے۔
مجوزہ روٹس اور منصوبے کی اہم تفصیلات
روسی سفارت خانے اور وزارتِ ریلوے کے حکام کی حالیہ بیٹھک میں اس بین الاقوامی منصوبے کے خدوخال واضح کیے گئے ہیں:
اہم کوریڈورز: یہ سروس بنیادی طور پر ماسکو تا کراچی اور ماسکو تا فیصل آباد روٹس پر یکساں طور پر چلائی جائے گی۔
بیلاروس کی شمولیت: خطے میں تجارتی نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے اس منصوبے میں بیلاروس کو بھی شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ٹرانزٹ: یہ مال گاڑی انٹرنیشنل نارتھ-ساتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کا حصہ بنتے ہوئے ایران، ترکمانستان اور قازقستان کے راستے اپنا سفر طے کرے گی۔
علاقائی تناؤ اور منصوبے میں تاخیر کی وجوہات
سفارتی ذرائع کے مطابق پاک روس مال گاڑی سروس کو ابتدائی طور پر جلدی فعال کیا جانا تھا لیکن 2025 اور 2026 کے اوائل میں مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل تناؤ (جیسے ایران اسرائیل کشیدگی اور بارڈر کی عارضی بندش) کے باعث اس منصوبے کو کئی بار موخر کرنا پڑا۔ تاہم اب صورتحال بہتر ہونے کے بعد دونوں ممالک اس منصوبے کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور مال برداری کے معاہدوں پر دستخط کے آخری مراحل جاری ہیں۔
پاک روس مال گاڑی سروس کے معاشی اثرات اور فوائد
اس ریل سروس کے فعال ہونے سے پاکستان اور روس کے دوطرفہ تجارتی حجم میں اربوں ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔ اس کے اہم معاشی فوائد درج ذیل جدول میں دیکھے جا سکتے ہیں:
| معاشی شعبہ | پاکستان کی برآمدات | روس سے درآمدات |
| ٹیکسٹائل اور گارمنٹس | فیصل آباد اور کراچی سے تیار ملبوسات کی فوری ترسیل | روسی منڈیوں تک سستی اور براہ راست رسائی |
| زرعی مصنوعات اور خوراک | پاکستانی چاول، آم، کینو اور دیگر سبزیاں | زرعی پیداوار خراب ہونے سے پہلے روس پہنچے گی |
| توانائی اور صنعتی خام مال | مینوفیکچرڈ سرجیکل اور کھیلوں کا سامان | روس سے سستا تیل، گیس، اسٹیل اور کھادیں |
| لاجسٹکس اور لاگت | سمندری راستے کے مقابلے میں وقت کی بڑی بچت | مال برداری کے اخراجات میں نمایاں کمی |
مستقبل کا منظر نامہ اور علاقائی روابط
یہ مال گاڑی سروس صرف دو ممالک کے روابط تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے بحرِ ہند تک رسائی حاصل کرنے کی روسی خواہش سے بھی جوڑتی ہے۔ روس بحیرہ اسود اور آبنائے ہرمز کے بحری خطرات کے متبادل کے طور پر اس زمینی ریلوے نیٹ ورک کو انتہائی اہم قرار دے رہا ہے۔ پاکستان ریلوے اور نجی کارپوریٹ کمپنیاں اس وقت ان کارپوریٹ اداروں کی اسکریننگ کر رہی ہیں جو اس نئے تجارتی کوریڈور کے ذریعے اپنا مال روس اور وسطی ایشیا بھیجنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔






