پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ مکرمہ میں دستخط کیے جانے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ نے عالمی سیاست بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے دفاعی نظام میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔ اس اتحاد کو نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 سے تشبیہ دی جا رہی تھی جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں عروج پر تھیں کہ یہ بلاک کسی خاص علاقائی ملک (جیسے ایران) کو کاؤنٹر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ تاہم اب ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے مکہ دفاعی معاہدہ کی تفصیلات پبلک کرتے ہوئے ان تمام افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور اس معاہدے کی اصل حقیقت اور سٹریٹجک دائرہ کار کو واضح کیا ہے۔
ترکیہ کا باقاعدہ مؤقف: معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بین الاقوامی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس تاریخی معاہدے کے متن میں کسی بھی ملک کو مشترکہ دشمن یا خطرہ نامزد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ اتحاد جارحانہ عزائم کے لیے نہیں بلکہ ایک دفاعی ڈھال کے طور پر کام کرے گا۔ ترکیہ کے اس بیان کا بنیادی مقصد خطے میں موجود دیگر بڑی طاقتوں بالخصوص ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا ہے۔ ترک حکام کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے طاقت کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہے اور یہ معاہدہ اسی توازن کو قائم کرنے کی ایک کڑی ہے۔
مصر کی شمولیت کا امکان: معاہدے کی توسیع کا منصوبہ
ترکیہ کی جانب سے سامنے آنے والی سب سے چونکا دینے والی تفصیل یہ ہے کہ اس دفاعی بلاک کو صرف تین ممالک تک محدود نہیں رکھا جائے گا۔ ترک وزیر خارجہ نے اشارہ دیا کہ مصر اس دفاعی اتحاد کا اگلا قدرتی شراکت دار ہو سکتا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے میں ترکیہ اور مصر کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اگر مصر بھی اس معاہدے کا حصہ بن جاتا ہے تو یہ بلاک بحیرہ احمر (Red Sea) اور بحیرہ روم (Mediterranean) کے تجارتی راستوں کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لینے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ مصر کی شمولیت سے اس اتحاد کو نہ صرف عسکری بلکہ تزویراتی لحاظ سے بھی بے پناہ مضبوطی ملے گی۔
مکہ دفاعی معاہدے کے حقیقی مقاصد اور عسکری پہلو
ترک حکام کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، اس معاہدے کا اصل فوکس درج ذیل تین بنیادی نکات پر ہے:
دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی: ترکیہ اپنی جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی (جیسے بیرقدار) اور بحری جنگی جہازوں کی تیاری کی صلاحیت پاکستان اور سعودی عرب کو منتقل کرے گا، جبکہ پانچویں نسل کے ترک جنگی طیارے (KAAN) کے پروگرام میں دونوں ممالک کو شراکت دار بنایا جا رہا ہے۔
سمندری راستوں کا تحفظ: بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے ایک مشترکہ میری ٹائم فورس قائم کی جا رہی ہے۔
فوجی خود انحصاری: مسلم دنیا کو سیکیورٹی اور عسکری سامان کے لیے مغربی ممالک یا امریکہ پر یکطرفہ انحصار کم کرنے کے قابل بنانا۔






