پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر صوبائی دارالحکومت میں ایک انتہائی منفرد اور جذباتی تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے جو شہریوں کو تاریخ کے جھروکوں میں لے جائے گی۔ نیشنل ہسٹری میوزیم لاہور میں 13 اگست 2026 کو تقسیمِ ہند 1947 کے دوران لکھے گئے حقیقی اور نایاب خطوط کی ایک خصوصی ڈرامائی ریڈنگ پیش کی جائے گی۔ یہ تقریب ان خاندانوں اور افراد کے گہرے ذاتی تجربات، ہجرت کے دکھ اور اپنوں سے بچھڑنے کی داستانوں کو دوبارہ زندہ کرے گی جنہوں نے برصغیر کی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کا سامنا کیا۔ اس تقریب کا مقصد نئی نسل کو آزادی کی حقیقی قیمت اور اس کے پیچھے چھپے انسانی جذبات سے روشناس کروانا ہے۔
معروف اداکار عدیل افضل خطوط کو اپنی آواز سے زندہ کریں گے
اس تاریخی اور ادبی تقریب کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان خطوط کی ریڈنگ پاکستان کے مایہ ناز رائٹر، مواد تخلیق کار اور اداکار عدیل افضل کریں گے۔ عدیل افضل اپنی جاندار آواز، منفرد انداز اور بہترین اداکاری کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل پریزاد کے علاوہ ایوارڈ یافتہ فلموں جیسے کملی اور زندگی تماشا میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
عدیل افضل اسکرپٹ رائٹنگ کمپنی امت الشہداء کے شریک بانی بھی ہیں جس نے حال ہی میں ہم ٹی وی کے نئے بلاک بسٹر ڈرامے بمبئی ٹیلرز کا اسکرپٹ لکھا ہے۔ عدیل افضل کی جادوئی آواز اور تاثرات تقسیم کے وقت لکھے گئے ان خطوط میں چھپے درد، امید اور اپنوں سے ملنے کی تڑپ کو سامعین کے دلوں تک پہنچائیں گے جس سے ماحول کے انتہائی سحر انگیز اور جذباتی ہونے کی توقع ہے۔
تقسیمِ ہند کے دور میں خطوط کی اہمیت: امید اور بقا کی کہانیاں
میوزیم انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 1947 میں جب سرحدوں کی لکیریں کھینچی گئیں تو لاکھوں خاندان راتوں رات ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے۔ اس دور میں جب مواصلات کے جدید ذرائع موجود نہیں تھے خطوط ہی رابطے کا واحد ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ یہ خطوط محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں تھے بلکہ یہ اپنوں کی خیریت جاننے کی واحد لکیر اور زندگی کی علامت تھے۔
اس تقریب میں ایسے ہی مستند اور حقیقی خطوط کا انتخاب کیا گیا ہے جو اس پرآشوب دور میں سرحد کے دونوں پار لکھے گئے تھے۔ ان خطوط کے ذریعے شرکاء کو ہجرت کی مشکلات، خاندانوں کی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود دلوں میں جوان رہنے والی امید اور حوصلے کی سچی کہانیاں سننے کو ملیں گی۔
نیشنل ہسٹری میوزیم: پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل انٹرایکٹو میوزیم
یہ شاندار تقریب نیشنل ہسٹری میوزیم لاہور میں شام 6 بجے سے 7 بجے تک منعقد ہوگی۔ یہ میوزیم لاہور کے تاریخی گریٹر اقبال پارک میں واقع ہے جو مینارِ پاکستان کے سائے تلے قائم ہے۔ یہ میوزیم لاہور کے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (PHA) کا ایک اہم پروجیکٹ ہے جس نے 2018 میں اپنے دروازے عوام کے لیے کھولے تھے۔
اس میوزیم کو پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل انٹرایکٹو میوزیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے جسے سائنسی خطوط پر سٹیزنز آرکائیو آف پاکستان (CAP) نے کیوریٹ اور منظم کیا ہے۔ سٹیزنز آرکائیو ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو پاکستان کی تاریخ، زبانی داستانوں اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔ حال ہی میں اس ادارے نے کراچی کے کلفٹن بیچ ویو پارک میں بھی ایک نئے ہسٹری میوزیم کا سنگِ بنیاد رکھا ہے، جس کا افتتاح سندھ حکومت کے تعاون سے کیا گیا ہے۔
تقریب میں شرکت کا طریقہ کار
میوزیم انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ہال میں نشستیں محدود ہونے کی وجہ سے تقریب میں شرکت کے لیے پیشگی رجسٹریشن لازمی ہے۔ دلچسپی رکھنے والے شہری، طلبا اور تاریخ کے شوقین افراد نیشنل ہسٹری میوزیم کے آفیشل انسٹاگرام پیج پر جا کر بائیو میں دیے گئے لنک کے ذریعے اپنا اندراج کروا سکتے ہیں۔ یہ تقریب یومِ آزادی کی مناسبت سے لاہور کے شہریوں کے لیے ایک بہترین فکری اور تاریخی تحفہ ثابت ہوگی۔






