آج کے ڈیجیٹل دور میں اسمارٹ فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور اس اسمارٹ فون کا دل سوشل میڈیا ایپس ہیں۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب جیسی بڑی ٹیکنالوجی (Big Tech) کمپنیاں اب صرف تفریح یا رابطے کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ یہ انسانی نفسیات، رویوں اور ہمارے جذبات کو کنٹرول کرنے والے سب سے طاقتور ہتھیار بن چکی ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان پلیٹ فارمز کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن اس چمکدمک کے پیچھے ایک تاریک پہلو بھی چھپا ہے جس نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
پہلے بگ ٹیک کمپنیوں کا سب سے بڑا چیلنج کنٹینٹ موڈریشن یعنی غیراخلاقی، نفرت انگیز یا پرتشدد مواد کو ہٹانا تھا۔ لیکن اب یہ چیلنج ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جسے کرائسز انٹرونشن یا بحرانی مداخلت کہا جاتا ہے۔ اب سوال یہ نہیں ہے کہ کون سا مواد آن لائن ہونا چاہیے اور کون سا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ جب کوئی نوجوان شدید ذہنی دباؤ، مایوسی یا خودکشی کے خیالات کے ساتھ ان ایپس پر وقت گزارتا ہے تو یہ الگورتھم اس کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ یا کیا یہ الگورتھم الٹا اس کی ذہنی حالت کو مزید بگاڑ رہے ہیں؟
سوشل میڈیا اور ذہنی صحت: پاکستانی معاشرے کا المیہ
ہمارے روایتی معاشرے میں ذہنی صحت اور نفسیاتی مسائل کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا اسے سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل اس وقت شدید ترین نفسیاتی بحران سے گزر رہی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا اور ذہنی صحت کا آپسی گہرا تعلق ہے۔
جب ایک نوجوان ٹک ٹاک یا انسٹاگرام اسکرول کرتا ہے تو اسے دوسروں کی کامل زندگی ، مہنگی گاڑیاں، برانڈڈ کپڑے اور مصنوعی مسکراہٹیں نظر آتی ہیں۔ یہ مسلسل موازنہ نوجوانوں کے اندر احساسِ کمتری، تنہائی اور ڈپریشن کو جنم دیتا ہے۔ بات یہاں تک محدود نہیں رہتی جب کوئی صارف اداسی یا مایوسی سے متعلق مواد سرچ کرتا ہے تو ان ایپس کا الگورتھم اسے مزید اسی طرح کا تاریک اور منفی مواد دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ اسے ٹیکنالوجی کی زبان میں ‘ریبٹ ہول ایفیکٹ’ (Rabbit Hole Effect) کہا جاتا ہے جہاں انسان منفی سوچ کے ایسے دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے جہاں سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کنٹینٹ موڈریشن کی ناکامی اور ٹک ٹاک کا نیا کردار
ماضی میں جب بھی سوشل میڈیا پر کوئی منفی رجحان سامنے آتا تو کمپنیاں اس مخصوص ویڈیو یا ہیش ٹیگ کو ڈیلیٹ یا بلاک کر دیتی تھیں۔ اسے روایتی کنٹینٹ موڈریشن کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ طریقہ کار اب مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) برے الفاظ یا برہنگی کو تو فلٹر کر سکتی ہے لیکن وہ انسانی اداسی، اکیلے پن اور خاموش پکار کو نہیں سمجھ سکتی۔
مثال کے طور پر اگر کوئی صارف ٹک ٹاک پر ایسی ویڈیوز دیکھ رہا ہے جو بظاہر اداس شاعری یا تنہائی پر مبنی ہیں تو آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسے نقصان دہ مواد قرار دے کر بلاک نہیں کرے گی۔ لیکن ایک حساس انسانی ذہن کے لیے یہ مسلسل منفی فیڈ خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات کو متحرک کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ٹک ٹاک اور دیگر بڑی کمپنیوں پر یہ دباؤ ہے کہ وہ صرف سنسرشپ نہ کریں بلکہ بحرانی مداخلت کا حصہ بنیں۔ یعنی جیسے ہی الگورتھم کو محسوس ہو کہ کسی صارف کا رویہ غیر معمولی یا خطرناک حد تک مایوس کن ہو رہا ہے ایپ کو فوری طور پر ایک لائف لائن یا مددگار کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔
بحرانی مداخلت (Crisis Intervention) کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟
بگ ٹیک کمپنیاں اب اپنے پلیٹ فارمز کو نفسیاتی مدد کے مراکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر کوئی صارف ٹک ٹاک یا گوگل پر خودکشی، ڈپریشن یا زندگی ختم کرنے سے متعلق کوئی بھی لفظ سرچ کرتا ہے تو اب اسے ویڈیوز کے بجائے سب سے پہلے ایک پاپ اپ ونڈو (Pop-up Window) دکھائی دیتی ہے۔ اس ونڈو پر مقامی ہیلپ لائن نمبرز اور ماہرینِ نفسیات کے رابطے موجود ہوتے ہیں۔
ٹک ٹاک نے اس حوالے سے کچھ نئے فیچرز بھی متعارف کرائے ہیں:
حفاظتی گائیڈز (Safety Guides): اگر کوئی صارف پریشان کن مواد سرچ کرتا ہے تو ایپ اسے ذہنی صحت کو بہتر بنانے اور تناؤ سے نمٹنے کے لیے عملی طریقے بتاتی ہے۔
سرچ انٹرفیس میں تبدیلی: منفی ہیش ٹیگز کو سرچ کرنے پر خودکار طور پر سرچ رزلٹس کو روک دیا جاتا ہے اور صارف کو مثبت اور معلوماتی مواد کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔
مقامی تنظیموں سے الحاق: پاکستان میں بھی اب یہ کمپنیاں مختلف فلاحی اداروں اور ذہنی صحت کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ مقامی زبان (اردو) میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
بگ ٹیک کی اخلاقی ذمہ داری اور کاروباری مفادات کا ٹکراؤ
یہاں ایک بڑا تضاد اور اخلاقی سوال سامنے آتا ہے۔ ان سوشل میڈیا کمپنیوں کا پورا بزنس ماڈل ‘اٹینشن اکانومی’ پر قائم ہے یعنی صارف جتنا زیادہ وقت ایپ پر گزارے گا، کمپنی اتنی ہی زیادہ اشتہارات سے کمائی کرے گی۔ بدقسمتی سے انسانی نفسیات ایسی ہے کہ منفی، سنسنی خیز اور جذباتی مواد انسان کو اپنے سحر میں زیادہ دیر تک جکڑے رکھتا ہے۔
اگر ٹک ٹاک یا فیس بک اپنے الگورتھم کو مکمل طور پر تبدیل کر کے صرف مثبت اور تعمیری مواد دکھانا شروع کر دیں تو شاید ان کا اسکرین ٹائم کم ہو جائے جس سے ان کے اربوں ڈالر کے منافع کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر ان کمپنیوں کی نیت پر شک کیا جاتا ہے۔ کیا یہ کمپنیاں واقعی ہماری نوجوان نسل کی ذہنی صحت کے لیے مخلص ہیں یا یہ صرف قانونی جرمانوں اور عوامی غصے سے بچنے کے لیے نمائشی اقدامات کر رہی ہیں؟ امریکہ اور یورپ میں اس وقت بگ ٹیک کمپنیوں کے خلاف سخت ترین قوانین بنائے جا رہے ہیں تاکہ انہیں بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔
والدین اور معاشرے کا کردار
ہم صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بھروسے اپنی نسلوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ڈیجیٹل خواندگی کی کمی ہے والدین کو سب سے اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
سوشل میڈیا اور ذہنی صحت کے اس بحران سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات اٹھانا ناگزیر ہیں:
اسکرین ٹائم کی حد مقرر کرنا: بچوں اور نوجوانوں کے لیے روزانہ سوشل میڈیا استعمال کرنے کا وقت مقرر ہونا چاہیے۔
کھلی گفتگو کی فضا: گھروں میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں بچے اپنے امتحانات کے خوف، احساسِ کمتری یا کسی بھی قسم کے ذہنی دباؤ کا کھل کر اظہار کر سکیں تاکہ انہیں انٹرنیٹ پر فرار نہ ڈھونڈنا پڑے۔
ڈیجیٹل ڈائیٹ : نوجوانوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی یہ صرف ایک ایڈٹ شدہ اور مصنوعی دنیا ہے۔
بگ ٹیک کمپنیوں کے لیے مواد کی سنسرشپ سے بحرانی مداخلت تک کا سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی اب صرف ایک ٹول نہیں رہی، یہ ہماری روح اور ذہن کے اندر تک سرائیت کر چکی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے غلام بننے کے بجائے اس کے پائیدار اور محفوظ استعمال کو اپنائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس ڈیجیٹل دلدل کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔






