پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین اور مواد تخلیق کرنے والوں (Content Creators) کے لیے ٹک ٹاک ایک انتہائی مقبول پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر یہ افواہیں تیزی سے گردش کر رہی تھیں کہ حکومتِ پاکستان یا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے ملک بھر میں ٹک ٹاک لائیو (TikTok Live) فیچر پر مستقل پابندی عائد کر دی ہے۔ ان افواہوں نے خاص طور پر ان صارفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا جو اس فیچر کے ذریعے اپنے فالورز سے لائیو رابطہ کرتے ہیں یا کمائی کرتے ہیں۔ تاہم پی ٹی اے نے اب اس معاملے پر باقاعدہ وضاحت جاری کر کے تمام شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہے۔
کیا پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو پر نئی پابندی لگی ہے؟
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے ان تمام رپورٹوں کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو پر کوئی نئی پابندی لگائی گئی ہے۔ پی ٹی اے کے حکام کے مطابق اتھارٹی کی جانب سے ٹک ٹاک لائیو فیچر کو بلاک کرنے کے لیے کوئی بھی نیا حکم نامہ یا ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا۔
صارفین کو درپیش حالیہ مشکلات کے حوالے سے پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز میں عارضی تکنیکی خرابی یا ٹک ٹاک کی اپنی اندرونی اپ ڈیٹس کی وجہ سے کچھ صارفین کو لائیو سٹریمنگ تک رسائی میں دشواری ہو سکتی ہے لیکن یہ کسی سرکاری پابندی کا نتیجہ نہیں ہے۔
پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو نہ چلنے کی اصل وجہ
بہت سے صارفین یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر پابندی نہیں ہے تو پھر عام طور پر پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو کا آپشن کیوں نظر نہیں آتا؟ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ٹک ٹاک نے آفیشل طور پر یہ فیچر پاکستانی ریجن کے لیے کبھی لانچ ہی نہیں کیا۔
جب ماضی میں پاکستان میں ٹک ٹاک پر لگی عارضی پابندیاں ختم کی گئی تھیں تو کمپنی اور حکام کے مابین یہ مفاہمت ہوئی تھی کہ لائیو سٹریمنگ کا آپشن مقامی طور پر دستیاب نہیں ہوگا۔ چنانچہ یہ ایک پلیٹ فارم لیول کی پابندی ہے جو خود ٹک ٹاک کی طرف سے عائد ہے نہ کہ پی ٹی اے کا لگایا ہوا کوئی بلاک۔
پاکستانی کانٹینٹ کریٹرز لائیو کیسے آتے ہیں؟
آفیشل سپورٹ نہ ہونے کے باوجود پاکستان کے متعدد انفلوئنسرز اور کریٹرز ٹک ٹاک پر لائیو سٹریمنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ آئی ٹی ماہرین اور ذرائع کے مطابق یہ کریٹرز مختلف متبادل اور غیر سرکاری طریقے استعمال کرتے ہیں جیسے:
غیر ملکی سم کارڈز (Foreign SIM Cards) کا استعمال کرنا۔
وی پی این (VPN) یا مخصوص پراکسیز کے ذریعے لوکیشن تبدیل کرنا۔
بیرونِ ملک موجود اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کے ذریعے اکاؤنٹس سیٹ اپ کروانا۔
پی ٹی اے اور بینکنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان غیر مجاز طریقوں سے لائیو آ کر فنڈز یا تحائف (Gifts) وصول کرنا قانونی دائرہ کار میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے اور سٹیٹ بینک آف پاکستان اس طرح کے غیر دستاویزی مالیاتی لین دین پر نظر رکھ سکتا ہے۔
مواد کی نگرانی اور مستقبل کے اقدامات
اگرچہ اس وقت کوئی نئی پابندی نہیں لگائی گئی لیکن حکومت اور صوبائی اسمبلیاں سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی اور نامناسب مواد کی روک تھام کے لیے مسلسل بحث کر رہی ہیں۔ ٹک ٹاک پاکستان میں اپنی کمیونٹی گائیڈلائنز کو سخت کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے اور صرف 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ہی کروڑوں ویڈیوز کو ضوابط کی خلاف ورزی پر ہٹایا گیا ہے۔ صارفین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ لائیو سٹریمنگ کے حوالے سے صرف پی ٹی اے کی آفیشل ویب سائٹ یا تصدیق شدہ ذرائع سے ملنے والی خبروں پر ہی یقین کریں۔






