پاکستان اور ایران کے مابین معاشی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان اور ایران کے درمیان دسویں مشترکہ تجارتی کمیٹی (Joint Trade Committee – JTC) کا دو روزہ اعلیٰ سطحی اجلاس باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔ اسٹریٹجک اور معاشی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل اس اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر برکاروبار و تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیرِ صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک کر رہے ہیں۔ وزارتِ تجارت کے حکام کے مطابق، اس تاریخی بیٹھک کا بنیادی مقصد دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانا، سرمایہ کاری کی نئی راہیں تلاش کرنا اور علاقائی روابط کو فروغ دینا ہے۔
مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس: وفود کی ساخت اور اہم شعبے
اس دسویں اجلاس کی خاص بات دونوں ممالک کی جانب سے غیر معمولی طور پر بڑے اور بااثر وفود کی شرکت ہے۔ ایران سے ایک 22 رکنی اعلیٰ سطح کا سرکاری وفد اسلام آباد پہنچا ہے۔
نجی شعبے کی شمولیت: سرکاری وفد کے ساتھ ساتھ ایران چیمبر آف کامرس، انڈسٹریز، مائنز اینڈ ایگریکلچر (ICCIMA) کے زیرِ قیادت 16 رکنی بااثر کاروباری وفد بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔
اہم کاروباری شعبے: یہ تجارتی وفد فوڈ، زرعی کاروبار (Agribusiness)، لاجسٹکس، شپنگ، ٹرانسپورٹیشن، انرجی اور مینوفیکچرنگ جیسے کلیدی شعبوں کی نمائندگی کر رہا ہے۔
اس وسیع شمولیت کا مقصد دونوں ممالک کے نجی شعبوں (Private Sectors) کے درمیان براہِ راست روابط اور بزنس ٹو بزنس (B2B) ماڈل کو مضبوط بنانا ہے۔
#Live: The 10th meeting of Pakistan-Iran Joint Trade Committee is underway in Islamabad.#News #RadioPakistan https://t.co/CPjCBpJ8T1
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 4, 2026
پاک ایران آزاد تجارتی معاہدے (FTA) پر اہم پیش رفت
اجلاس کے بنیادی ایجنڈے میں سب سے اہم نقطہ پاک-ایران آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینا اور اس کے نفاذ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کے حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا اسٹریٹجک ہدف مقرر کیا تھا
اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کمیٹی درج ذیل سٹریٹجک اقدامات پر تفصیلی مشاورت کر رہی ہے:
کسٹمز اور بینکنگ تعاون: دونوں ممالک کے درمیان بینکاری چینلز کی عدم موجودگی تجارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے، جس کے حل کے لیے متبادل بالواسطہ بینکنگ انتظامات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
سرحدی بنیادی ڈھانچہ: کونسل کراس بارڈر تجارت کی سہولت کے لیے سرحدی منڈیوں کی فعالی اور کسٹمز کلیئرنس کے وقت کو کم کرنے پر کام کر رہی ہے۔
ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کنیکٹیویٹی: ریل لنکس اور کارگو روٹس کو بہتر بنا کر ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو کم کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ٹاسک فورس کی تجویز
مذاکرات کے دوران ایران چیمبر آف کامرس کے نائب صدر حسین پیرموذن نے دونوں ممالک کے مابین تجارتی دستاویزات اور سرٹیفکیٹس کی فوری تصدیق کے لیے ایک مشترکہ میکانزم بنانے کی تجویز دی ہے۔ نجی شعبے کی جانب سے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو ایک مقررہ ٹائم ٹیبل کے تحت تاجروں کے تنازعات حل کرے گی اور برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرے گی۔
موجودہ علاقائی صورتحال اور جیو پولیٹیکل منظرنامے میں یہ مذاکرات انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں، جہاں پاکستان خطے میں معاشی استحکام کے لیے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اقتصادی نیٹ ورک کو وسیع کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس دسویں مشترکہ اجلاس کے اختتام پر متعدد یادداشتوں (MoUs) پر دستخط متوقع ہیں جو مستقبل میں پاک ایران تجارتی تعلقات کا نیا رخ طے کریں گے۔






