لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے غریب اور محنت کش طبقے کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے لیے مریم نواز راشن کارڈ پروگرام کی توسیع کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے. مالیاتی سال 2026-27 کے لیے اس فلیگ شپ سماجی بہبود کے منصوبے کو جاری رکھنے اور اس کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے حکومتِ پنجاب نے مزید 43.2 ارب روپے کے خطیر فنڈز مختص کیے ہیں. اس سے قبل صوبائی حکومت اس اسکیم کے تحت 12 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مزدوروں میں 28 ارب روپے کی مالی امداد کامیابی سے تقسیم کر چکی ہے.
مریم نواز راشن کارڈ پروگرام کے نئے اہداف اور بجٹ کی تفصیلات
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت لاہور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبائی وزیر محنت منشاء اللہ بٹ اور سیکریٹری لیبر دانش افضل نے پروگرام کی اب تک کی کارکردگی اور توسیعی منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی. اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار رجسٹرڈ مزدوروں کی تعداد ریکارڈ 1,403,063 تک پہنچ چکی ہے.
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق:
راشن کارڈز کی تقسیم: اب تک 1,244,130 رجسٹرڈ مزدوروں کو مریم نواز راشن کارڈز فراہم کیے جا چکے ہیں۔
پرنٹنگ کا عمل: مزید 4,984 کارڈز کی پرنٹنگ کا کام تیزی سے جاری ہے جو جلد ہی مستحقین کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
ستھرا پنجاب اسکیم شمولیت: نئے مالی سال کے توسیعی پروگرام میں "ستھرا پنجاب” سروس سے وابستہ 1 لاکھ سے زائد سینیٹری ورکرز اور لیبر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
راشن کارڈ کے تحت ملنے والی مراعات اور طریقہ کار
اس ویلفیئر پروگرام کا بنیادی مقصد صوبے بھر کے محنت کشوں کو غذائی تحفظ (Food Security) فراہم کرنا ہے۔ مریم نواز راشن کارڈ ہولڈرز ہر مہینے پنجاب بھر میں قائم 62,000 سے زائد رجسٹرڈ ریٹیل شاپس اور یوٹیلٹی اسٹورز سے 3,000 روپے مالیت کا بنیادی راشن مفت یا انتہائی رعایتی نرخوں پر حاصل کر سکتے ہیں۔ اس راشن باسکٹ میں آٹا، گھی، چینی، دالیں اور چاول جیسی ضروری اشیاء شامل کی گئی ہیں تاکہ غریب خاندانوں کے کچن کے اخراجات کو سہارا دیا جا سکے۔
شفافیت برقرار رکھنے کے لیے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) اور بینک آف پنجاب (BOP) کے اشتراک سے ایک ڈیجیٹل مانیٹرنگ ڈیش بورڈ قائم کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کے بعد ہی راشن جاری کیا جاتا ہے، جس سے کرپشن اور بوگس کارڈز کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکا ہے۔
مریم نواز راشن کارڈ پروگرام کے معاشی اثرات
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ محنت کش طبقے کا معاشی تحفظ یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ 43.2 ارب روپے کے اس اضافی بجٹ سے نہ صرف غریب خاندانوں کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوگا بلکہ صوبے میں اشیائے خورونوش کی سپلائی چین بھی مستحکم ہوگی۔ حکومت نے محکمہ محنت کو ہدایت کی ہے کہ صوبے کے دور دراز اضلاع (جیسے ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور مظفر گڑھ) میں رجسٹریشن کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ کوئی بھی مستحق مزدور اس اسکیم سے محروم نہ رہے۔






