Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

بدلتا موسم اور ڈوبتے شہر: پاکستان میں کلائمٹ چینج کو قومی ایمرجنسی کیوں قرار نہ دیا گیا؟

بلال رشید by بلال رشید
جولائی 25, 2026
in آج کی اہم خبریں – پاکستان اور دنیا کی سرخیاں اور بریکنگ نیوز
پاکستان میں کلائمٹ چینج ایمرجنسی

ہر سال جب مون سون کا سیزن شروع ہوتا ہے تو پاکستان کے بڑے شہروں کی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں اور دیہی علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز سے لے کر کراچی کے ڈوبتے ہوئے شہری انفراسٹرکچر تک، ماحولیاتی تباہی ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے رہی بلکہ گھر کے اندر داخل ہو چکی ہے عالمی ماحولیاتی انڈیکس کے مطابق پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے ان تمام حقائق سالانہ اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات اور ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اب تک پاکستان میں کلائمٹ چینج ایمرجنسی کو ایک باقاعدہ اور مستقل قومی ایمرجنسی کیوں قرار نہیں دیا گیا؟

سیاسی ترجیحات، انتظامی سستی اور دور اندیشی کی کمی نے اس سنگین بحران کو محض ایک موسمی حادثہ بنا کر رکھ دیا ہے جس پر صرف تب بات ہوتی ہے جب پانی سر سے گزر جاتا ہے

موسمیاتی تباہی: گلیشیئرز سے سمندر تک پھیلا ہوا بحران

پاکستان کا جغرافیہ اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں کی فرنٹ لائن پر کھڑا ہے شمال میں واقع گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی سلسلے جو کبھی ہمارے پانی کا بنیادی ذریعہ تھے اب ماحولیاتی تباہی کا گڑھ بن چکے ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشیئرز اتنی تیزی سے پگھل رہے ہیں کہ جھیلیں پھٹنے کے واقعات (GLOF) اب معمول بن چکے ہیں۔ یہی پانی جب میدانوں کی طرف بڑھتا ہے تو بادلوں کے پھٹنے (Cloudburst) اور غیر متوقع شدید بارشوں کے باعث سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  صدر زرداری کی متحدہ عرب امارات کے نائب صدر سے ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے پر گفتگو

دوسری طرف، ہمارے بڑے شہر جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد اب اربن فلڈنگ (Urban Flooding) کا مستقل شکار ہیں نکاسی آب کا بوسیدہ نظام اور ندی نالوں پر غیر قانونی تجاوزات نے شہروں کو جھیلوں میں تبدیل کر دیا ہے یہ صرف پانی کا جمع ہونا نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی معیشت، زراعت اور انسانی بقا کا بحران ہے جو ہر سال لاکھوں لوگوں کو ہجرت پر مجبور کر دیتا ہے

قومی ایمرجنسی کے نفاذ میں رکاوٹیں اور حکومتی ترجیحات

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی ملک میں قومی ایمرجنسی کا مطلب صرف کاغذی اعلان نہیں ہوتا بلکہ اس کے تحت تمام ریاستی وسائل، بجٹ اور قانون سازی کو ہنگامی بنیادوں پر اس ایک نکتے پر مرکوز کرنا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو پا رہا؟ اس کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

سیاسی عدم استحکام اور قلیل مدتی سوچ: پاکستان کی سیاسی قیادت ہمیشہ فوری نوعیت کے سیاسی بحرانوں، الیکشنز اور بجٹ خسارے جیسے مسائل میں الجھی رہتی ہے۔ کلائمٹ چینج ایک طویل مدتی بحران ہے جس کے نتائج چند ماہ میں نہیں بلکہ دہائیوں میں سامنے آتے ہیں اس لیے سیاسی جماعتیں اسے اپنے فوری بیانیے کا حصہ نہیں بناتیں۔

بیوروکریٹک سستی اور فنڈز کا ضیاع: این ڈی ایم اے (NDMA) اور پی ڈی ایم اے (PDMA) جیسے ادارے صرف ڈیزاسٹر مینجمنٹ (یعنی حادثہ ہونے کے بعد امداد پہنچانے) تک محدود ہیں جبکہ ضرورت "ڈیزاسٹر پریوینشن” (حادثے سے پہلے بچاؤ) کی ہے حکومتیں طویل مدتی منصوبوں کے بجائے عارضی ریلیف پیکجز پر یقین رکھتی ہیں

یہ بھی پڑھیں:  دسویں فیض فیسٹیول کا لاہور میں شاندار آغاز: منفرد ویژول آرٹ شو

عالمی امداد پر حد سے زیادہ انحصار: پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی فورمز (جیسے COP کانفرنسز) پر جا کر ‘لاس اینڈ ڈیمج’ (Loss and Damage) فنڈز کا مطالبہ تو کرتا ہے لیکن اپنے اندرونی ڈھانچے کو درست کرنے اور گرین فنانسنگ پائپ لائن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے

معاشی اور سماجی اثرات: سفید پوش طبقے پر دوہری مار

جب تک ہم پاکستان میں کلائمٹ چینج ایمرجنسی کا نفاذ نہیں کرتے اس کا سب سے بڑا خمیازہ ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو بھگتنا پڑے گا سیلاب اور قحط سالی کی وجہ سے ہماری زراعت جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے شدید تباہی کا شکار ہے کپاس، گندم اور چاول کی فصلیں تباہ ہونے سے نہ صرف کسان بدحال ہو رہا ہے بلکہ شہروں میں غذائی قلت اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لے رہا ہے。

اس کے علاوہ ڈوبتے ہوئے شہروں اور گندے پانی کی وجہ سے ڈینگی، ملیریا اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں وبائی شکل اختیار کر لیتی ہیں جس سے ہمارا پہلے سے مفلوج ہیلتھ کیئر سسٹم مزید بیٹھ جاتا ہے نوجوان نسل جو اس ملک کا مستقبل ہے تعلیم اور روزگار کے مواقعوں سے محروم ہو کر ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے

اب نہیں تو کب؟ حل کی طرف پیش قدمی

پاکستان اب مزید کسی تجربے یا سستی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر اب بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کو قومی سلامتی کا مسئلہ تسلیم کر کے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے چند سالوں میں ہمارے شہر رہنے کے قابل نہیں رہیں گے حکومت کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے ہوں گے:

یہ بھی پڑھیں:  اسٹاک سرحد پار کشیدگی کے سبب مندی پر ہفتے کے اختتام پر ہے.

پانی کے ذخائر میں اضافہ: پاکستان کے پاس صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر چھوٹے ڈیمز اور رین واٹر ہارویسٹنگ (Rainwater Harvesting) کے نظام کو فروغ دینا ہوگا。

شہری منصوبہ بندی (Urban Planning): شہروں کے ماسٹر پلانز کو دوبارہ سے ڈیزائن کرنا ہوگا اور ندی نالوں پر قائم تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنانا ہوگا

لازمی کلائمٹ اسکریننگ: تمام ترقیاتی منصوبوں (بشمول سی پیک کے نئے فیز) میں ماحولیاتی خطرات کی جانچ پڑتال کو قانونی طور پر لازمی قرار دیا جائے

خلاصہ یہ ہے کہ موسم بدل چکا ہے اور ہمارے شہر ڈوب رہے ہیں اب یہ ہماری سیاسی قیادت پر ہے کہ وہ روایتی بیان بازی سے نکل کر پاکستان میں کلائمٹ چینج ایمرجنسی کا باقاعدہ اعلان کرے اور اس جنگ کو بقا کی جنگ سمجھ کر لڑے قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔

بلال رشید

بلال رشید

بلال رشید ایک شہری امور اور سیاسی تجزیہ کار ہیں جو مقامی طرزِ حکمرانی اور شہری ترقی کے معاملات پر تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں شہروں کی منصوبہ بندی، بلدیاتی سیاست اور عوامی مفاد سے متعلق موضوعات پر مبنی ہوتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک: کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے پیشِ نظر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہنگامی سیل قائم

جولائی 25, 2026
پاکستان میں کلائمٹ چینج ایمرجنسی

بدلتا موسم اور ڈوبتے شہر: پاکستان میں کلائمٹ چینج کو قومی ایمرجنسی کیوں قرار نہ دیا گیا؟

جولائی 25, 2026
اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان

اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان: وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے بڑے کلاؤڈ انفراسٹرکچر کا افتتاح

جولائی 25, 2026
ایکس باکس فری کلاؤڈ گیمنگ

ایکس باکس فری کلاؤڈ گیمنگ: مائیکروسافٹ کا نیا پلان، اب آفیشل گیمز کھیلیں بالکل مفت

جولائی 25, 2026
عینک والا جن اینیمیٹڈ فلم

عینک والا جن اینیمیٹڈ فلم: 90 کی دہائی کے یادگار شاہکار کی اینیمیشن کے ساتھ  واپسی

جولائی 25, 2026
پنجاب شرمپ انٹرنشپ پروگرام

پنجاب شرمپ انٹرنشپ پروگرام: نوجوانوں کے لیے 1 لاکھ روپے ماہانہ وظیفے کا شاندار موقع

جولائی 25, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک: کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے پیشِ نظر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہنگامی سیل قائم

جولائی 25, 2026
پاکستان میں کلائمٹ چینج ایمرجنسی

بدلتا موسم اور ڈوبتے شہر: پاکستان میں کلائمٹ چینج کو قومی ایمرجنسی کیوں قرار نہ دیا گیا؟

جولائی 25, 2026
اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان

اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان: وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے بڑے کلاؤڈ انفراسٹرکچر کا افتتاح

جولائی 25, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.