پاکستان میں گرمیاں شروع ہوتے ہی عام آدمی کا سب سے بڑا ڈراؤنا خواب بجلی کا بھاری بل بن جاتا ہے۔ لیسکو (LESCO)، کے-الیکٹرک (K-Electric) اور پیسکو (PESCO) سمیت تمام بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے ٹیرف میں مسلسل اضافے، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) اور مختلف ٹیکسوں کی بھرمار نے تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ بہت سے لوگ اس کا واحد حل سولر پینلز کا انسٹال کرنا سمجھتے ہیں لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی میں ہر شخص لاکھوں روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری (Initial Investment) کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔
خوش قسمتی سے کچھ ایسی عملی، سستی اور سائنسی طور پر ثابت شدہ تکنیکس موجود ہیں جن پر عمل کر کے آپ سولر پینل لگائے بغیر بھی اپنے بجلی کے بل میں 30 سے 40 فیصد تک واضح کمی لا سکتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم بجلی کا بل کم کرنے کے طریقے اور ان کے درست نفاذ پر تفصیلی بات کریں گے۔
1۔ پیک آورز (Peak Hours) کی پہچان اور عادات میں تبدیلی
پاکستان میں بجلی کا بل کم کرنے کا سب سے آسان اور مفت طریقہ "پیک آورز” کے قانون کو سمجھنا ہے۔ حکومت نے چوٹی کے اوقات (پیک آورز) میں بجلی کا فی یونٹ ریٹ عام اوقات (Off-Peak Hours) کے مقابلے میں تقریباً دگنا یا اس سے بھی زائد مقرر کر رکھا ہے۔
پیک آورز کا وقت: گرمیوں میں (خصوصاً اپریل سے اکتوبر تک) شام 7 بجے سے رات 11 بجے تک کے اوقات پیک آورز کہلاتے ہیں۔
کیا کرنا چاہیے؟ اس چار گھنٹے کے دورانیے میں اپنے گھر کی بھاری برقی اشیاء جیسے کہ ایئر کنڈیشنر (AC)، واٹر پمپ (موٹر)، استری، واشنگ مشین اور مائیکرو ویو اوون کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیں۔ صرف ان اوقات میں احتیاط برتنے سے آپ کا بل اگلی بار حیران کن حد تک کم آئے گا۔
پاکستان میں بجلی کے یونٹس اور سلیب کا اثر
پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کے قوانین کے مطابق اگر آپ کے استعمال شدہ یونٹس ایک مخصوص حد (Slab) کو پار کر جائیں تو پچھلے تمام یونٹس پر بھی مہنگا ریٹ لاگو ہو جاتا ہے:
| ماہانہ یونٹس کا سلیب [2] | بل پر اثر (ٹیرف کی نوعیت) | بل بچانے کی حکمتِ عملی |
| 1 سے 100 یونٹس | انتہائی سستا لائف لائن ٹیرف | غیر ضروری لائٹس بند رکھیں |
| 101 سے 200 یونٹس | لوئر مڈل ٹیرف ریٹ | کمپیوٹر اور ٹی وی اسٹینڈ بائی پر نہ چھوڑیں |
| 201 سے 300 یونٹس | پروٹیکٹڈ (Protected) سلیب کا آخری ہدف | ہر صورت بل کو 300 یونٹ سے نیچے رکھیں |
| 300 یونٹس سے زائد | ان-پروٹیکٹڈ (Unprotected) بھاری ٹیرف | انورٹر آلات کا استعمال بڑھائیں |
2۔ پرانے پنکھوں اور لائٹس کو انورٹر ٹیکنالوجی سے بدلیں
ہمارے گھروں میں لگی لائٹس اور پرانے زمانے کے پنکھے بظاہر بھاری نہیں لگتے لیکن چوبیس گھنٹے چلنے کی وجہ سے یہ بل کا ایک بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔
کپیسیٹر پنکھے بمقابلہ بی ایل ڈی سی (BLDC) پنکھے: ایک عام پرانا پنکھا 80 سے 100 واٹ بجلی لیتا ہے۔ اس کے برعکس جدید بی ایل ڈی سی (Inverter) پنکھے صرف 25 سے 30 واٹ بجلی مصرف کرتے ہیں۔ اگر آپ گھر کے 3 پرانے پنکھے بدل لیں تو یہ اکیلے ہی آپ کے ماہانہ 60 سے 80 یونٹس بچا سکتے ہیں۔
ایل ای ڈی (LED) لائٹس کا استعمال: اگر گھر میں اب بھی پرانے پیلے بلب یا انرجی سیورز موجود ہیں تو انہیں فوری طور پر معیاری ایل ای ڈی بلبوں سے تبدیل کریں جو 80 فیصد تک کم بجلی لیتے ہیں۔
3۔ ایئر کنڈیشنر (AC) کا سائنسی اور درست استعمال
پاکستان کی شدید گرمی میں AC کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے لیکن اس کے استعمال میں کی جانے والی چند چھوٹی غلطیاں بل کو آسمان پر پہنچا دیتی ہیں۔
26 ڈگری پر سیٹنگ: بہت سے لوگ کمرے کو جلدی ٹھنڈا کرنے کے لیے AC کو 16 یا 18 ڈگری پر چلا دیتے ہیں۔ سائنسی طور پر انسانی جسم کے لیے 26 ڈگری سینٹی گریڈ سب سے بہترین اور آرام دہ درجہ حرارت ہے۔ AC کو 26 پر چلانے سے اس کا کمپریسر کم لوڈ لیتا ہے اور بجلی کی بچت ہوتی ہے۔
انورٹر AC اور سروسنگ: ہمیشہ فل انورٹر AC استعمال کریں اور ہر 15 دن بعد اس کے ایئر فلٹرز خود صاف کریں۔ مٹی سے بھرے فلٹرز کی وجہ سے بلاکیج ہوتی ہے جس سے AC کو کمرہ ٹھنڈا کرنے کے لیے دگنی طاقت لگانی پڑتی ہے اور بل بڑھ جاتا ہے۔
4۔ فینٹم لوڈ (Phantom Load) یعنی اسٹینڈ بائی بجلی کا خاتمہ
کیا آپ جانتے ہیں کہ جب آپ ریموٹ سے ٹی وی، اے سی یا مائیکرو ویو اوون بند کرتے ہیں لیکن مین سوئچ آن رہتا ہے تو وہ آلات مسلسل بجلی کھا رہے ہوتے ہیں؟ اسے تکنیکی زبان میں "فینٹم لوڈ” یا ‘Vampire Draw‘ کہا جاتا ہے۔
موبائل کے چارجرز جو ہر وقت بورڈ میں لگے رہتے ہیں کمپیوٹرز، اور ایل سی ڈی اسکرینز اسٹینڈ بائی موڈ پر بھی سالانہ ہزاروں روپے کی بجلی ضائع کرتے ہیں۔ رات کو سوتے وقت یا گھر سے باہر جاتے وقت تمام برقی آلات کے مین سوئچ بورڈ سے بٹن بند کرنے کی عادت ڈالیں۔
ان 4 آسان اور آزمودہ طریقوں کو بیک وقت اپنے گھر پر لاگو کر کے آپ بغیر کسی مہنگے سولر سسٹم کے اپنے بجلی کے بل کو باآسانی پروٹیکٹڈ سلیب (300 یونٹس سے کم) کے اندر رکھ سکتے ہیں۔






