پاکستان میں مالی سال 2026-27 (FY27) کا وفاقی بجٹ جو پہلے جون کے اوائل میں متوقع تھا اب کچھ ناگزیر وجوہات اور آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ جاری مذاکرات کے باعث تاخیر کا شکار ہو کر 12 جون کو پیش کیا جا رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اس بار 15 کھرب روپے سے زائد کا ریکارڈ ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے جس کو پورا کرنے کے لیے ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں ملک کا تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ تشویش کا شکار ہے، کیونکہ انکم ٹیکس سلیبس پاکستان میں مجوزہ تبدیلیاں براہ راست ملازمین کی ماہانہ ان ہینڈ یا ٹیک ہوم پے (Take-home Pay) کو متاثر کریں گی۔
شہریوں اور معاشی ماہرین کے درمیان یہ بحث عروج پر ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ میں آکر ٹیکسز میں مزید اضافہ کرے گی یا مہنگائی سے پسے ہوئے تنخواہ دار طبقے کو کچھ ریلیف دیا جائے گا۔
ٹیکس فری آمدنی کی حد (Tax-Free Threshold) میں تبدیلی
پرانے ٹیکس ڈھانچے کے تحت پاکستان میں سالانہ 6 لاکھ روپے (یعنی 50,000 روپے ماہانہ) تک کمانے والے افراد پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا تھا۔ معاشی حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر اس حد کو بڑھا کر کم از کم 10 لاکھ یا 12 لاکھ روپے سالانہ کیا جائے تاکہ کم آمدنی والے ملازمین کو ریلیف مل سکے۔ 12 جون کے بجٹ میں اگر یہ حد تبدیل ہوتی ہے تو 50,000 سے 100,000 روپے ماہانہ کمانے والوں کی ٹیک ہوم پے میں واضح فرق دیکھنے کو ملے گا۔
مڈل کلاس کے لیے ٹیکس ریٹس میں کمی یا اضافہ
پرانے سلیبس کے مطابق مڈل کلاس یعنی ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے ملازمین پر بالترتیب 15% سے 25% تک کے پروگریسیو ٹیکس ریٹس لاگو تھے۔ بجٹ کے حوالے سے سامنے آنے والی حالیہ تجاویز کے مطابق:
کم آمدنی والے مڈل کلاس (مثلاً ایک لاکھ روپے ماہانہ) کے لیے ٹیکس کی شرح کو 5% سے کم کر کے 2.5% کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
اس کے برعکس، اڑھائی سے تین لاکھ روپے سے زائد کمانے والوں کے لیے ٹیکس سلیب کو مزید ریشنلائز (Rationalize) کیا جا سکتا ہے، جس کا مقصد ٹیکس وصولی کو بڑھانا ہے۔
ہائیر انکم سلیب (Higher Income Slab) اور سپر ٹیکس کا نفاذ
پرانے قوانین کے تحت سالانہ 60 لاکھ روپے سے زائد (یعنی 5 لاکھ روپے ماہانہ سے اوپر) کمانے والے اعلیٰ تنخواہ دار طبقے پر سب سے زیادہ 35% تک ٹیکس عائد تھا۔ حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنا ہے جس کے لیے امیر ترین طبقے اور کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے یا اس میں معمولی تبدیلی کی توقع ہے۔ اگر اس ہائیر سلیب میں ٹیکس کی شرح کو 32.5% پر لایا جاتا ہے یا اضافی سرچارجز ختم کیے جاتے ہیں تو کارپوریٹ سیکٹر کے سینیئر ملازمین کی ان ہینڈ سیلری میں اضافہ ہوگا۔
نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی سختی
بجٹ FY27 کا سب سے بڑا فوکس معیشت کو دستاویزی بنانا (Documented Economy) ہے۔ اگر آپ تنخواہ دار ملازم ہیں لیکن آپ کا نام ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں شامل نہیں ہے (یعنی آپ نان فائلر ہیں) تو نئے بجٹ کے بعد آپ کی مشکلات بڑھنے والی ہیں۔ نان فائلر ملازمین کے بینکنگ ٹرانزکشنز، کیش نکالنے اور دیگر یوٹیلٹی بلز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو مزید بڑھایا جا رہا ہے جس کا بالواسطہ اثر ان کی ماہانہ بچت پر پڑے گا۔
پرانے ٹیکس سلیبس بمقابلہ نئے متوقع ٹیکس ریٹس (ماہانہ آمدنی کی بنیاد پر)
ملازمین کی آسانی کے لیے پرانے ٹیکس ڈھانچے اور 12 جون کے بجٹ میں متوقع تبدیلیوں کا ایک تقابلی جائزہ نیچے جدول میں پیش کیا گیا ہے:
| ماہانہ آمدنی (PKR) | پرانا ٹیکس ریٹ (FY26) | متوقع نیا ٹیکس ریٹ (FY27) | ٹیک ہوم پے پر ممکنہ اثر |
| 50,000 تک | 0% (ٹیکس فری) | 0% (ٹیکس فری برقرار) | کوئی تبدیلی نہیں |
| 100,000 تک | 5% | 2.5% (مجوزہ کمی) | ان ہینڈ تنخواہ میں معمولی اضافہ |
| 183,000 سے 333,000 | 15% سے 27.5% | گریجول کٹس / ریشنلائزیشن | مڈل کلاس کو ریلیف کی امید |
| 333,000 سے زائد | 35% | 32.5% تک کمی (مجوزہ) | اعلیٰ ملازمین کی بچت میں اضافہ |






