پاکستان میں اپنے کسی پیارے یا بچے کا لاپتہ ہو جانا کسی بھی خاندان کے لیے سب سے بڑا ذہنی صدمہ اور تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ ماضی میں گمشدہ افراد کی تلاش کے لیے اخبارات میں اشتہارات اور تھانوں کے چکر کاٹنے پڑتے تھے لیکن اب پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) اور پنجاب پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک انقلابی اقدام اٹھایا ہے۔ پنجاب حکومت کے خصوصی وژن کے تحت تیار کردہ میرا پیارا ایپ پنجاب (Mera Pyara Portal) لاپتہ بچوں، ذہنی معذور افراد، الزائمر کے مریضوں اور بزرگوں کو ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملانے کے لیے پاکستان کا سب سے بڑا مرکزی نیٹ ورک بن چکا ہے۔
یہ جدید ترین پورٹل نہ صرف گمشدگی کی فوری رپورٹ درج کرنے کی سہولت دیتا ہے بلکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، فیشل ریکگنیشن (چہرے کی شناخت) اور بائیو میٹرک ڈیٹا بیس (Biometric Data) کی مدد سے گمشدہ افراد کو سیکنڈوں میں ٹریس کر لیتا ہے۔
میرا پیارا پورٹل کا بنیادی مقصد اور کام کرنے کا طریقہ
‘میرا پیارا’ ورچوئل سینٹر برائے چائلڈ سیفٹی ایک مینوئل سسٹم کے بجائے ایک انتہائی اسمارٹ انٹیلیجنس بیسڈ پلیٹ فارم ہے۔ اس سسٹم کو ملک بھر کے بڑے فلاحی اداروں (جیسے ایدھی سینٹر، چائلڈ پروٹیکشن بیورو، اور یتیم خانوں) کے ڈیٹا بیس سے براہِ راست منسلک کیا گیا ہے۔
عندما بھی کوئی لاوارث بچہ یا بزرگ کسی فلاحی ادارے یا پولیس کو ملتا ہے تو اس کی معلومات فوری طور پر اس پورٹل پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہیں۔ اسی طرح جب متاثرہ خاندان اپنے لاپتہ پیارے کی رپورٹ درج کرتا ہے تو سسٹم کا ڈیجیٹل الگورتھم دونوں ریکارڈز کا خودکار موازنہ (Matchmaking) شروع کر دیتا ہے۔
گمشدہ شخص کی رپورٹ درج کرانے اور بائیو میٹرک ڈیٹا اپ لوڈ کرنے کا طریقہ
اگر خدانخواستہ آپ کا کوئی اپنا لاپتہ ہو گیا ہے تو آپ کو 24 گھنٹے انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ فوری طور پر درج ذیل چینلز کے ذریعے اپنی درخواست جمع کرا سکتے ہیں:
آفیشل ویب سائٹ اور ایپ کا استعمال: اپنے فون میں ‘پبلک سیفٹی ایپ’ ڈاؤن لوڈ کریں یا ‘میرا پیارا’ کے سرکاری ویب پورٹل پر جائیں۔
تفصیلات کا اندراج: فارم میں لاپتہ شخص کا نام، عمر، قد، حلیہ، آخری بار دیکھی جانے والی لوکیشن اور سرپرست کا شناختی کارڈ (CNIC) یا ب فارم (B-Form) نمبر درج کریں۔
تصویر اور بائیو میٹرک کی اپ لوڈنگ: لاپتہ فرد کی حالیہ ترین واضح تصویر لازمی اپ لوڈ کریں۔ اگر آپ کے پاس اس کے انگلیوں کے نشانات (Fingerprints) یا کوئی سابقہ بائیو میٹرک ریکارڈ موجود ہو تو اسے بھی شامل کریں۔
فزیکل ہیلپ ڈیسک: شہری اپنے قریبی ‘پولیس خدمت مرکز’ ‘تحفظ مرکز’ یا تھانے کے فرنٹ ڈیسک پر جا کر بھی اپنا بائیو میٹرک ڈیٹا اور ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کے نمونے فراہم کر سکتے ہیں تاکہ میچنگ کو سو فیصد درست بنایا جا سکے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور فیشل ریکگنیشن (AI & Facial Recognition) کا جادو
میرا پیارا ایپ پنجاب کی سب سے بڑی طاقت اس کا آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی فیشل ریکگنیشن سسٹم ہے۔ بہت سے بچے یا ذہنی معذوری کا شکار افراد (جیسے ڈیمنشیا یا شیزوفرینیا کے مریض) اپنا نام، پتہ یا شہر بتانے سے قاصر ہوتے ہیں۔
ایسے معاملات میں:
جیسے ہی آپ لاپتہ شخص کی تصویر واٹس ایپ ہیلپ لائن 0309-0000015 پر بھیجتے ہیں سسٹم کا کمپیوٹرائزڈ کیمرہ ٹریسنگ اور فیشل ٹیکنالوجی الرٹ متحرک ہو جاتا ہے۔
یہ سسٹم چند ہی سیکنڈز میں آپ کی فراہم کردہ تصویر کا موازنہ پنجاب بھر کے اولڈ ہومز، شیلٹر ہومز (دارالامان) اور لاوارث پائے جانے والے افراد کی لائیو تصاویر سے کرتا ہے۔
میچ پائے جانے کی صورت میں سسٹم فوری الرٹ پیدا کرتا ہے اور پولیس اہلکار قانونی تصدیق کے بعد واٹس ایپ کے ذریعے خاندان کو تصویر بھیج کر لوکیشن کی تصدیق کرواتے ہیں۔
پنجاب سے باہر رہنے والے شہریوں کے لیے رپورٹنگ کا طریقہ
اگرچہ یہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا پراجیکٹ ہے لیکن اس کا نیٹ ورک پورے پاکستان کا احاطہ کرتا ہے۔ سندھ، کے پی کے یا بلوچستان کے رہائشی بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پنجاب پولیس کی ٹول فری ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے سگنل نمبر 3 دبا سکتے ہیں تاکہ وہ براہِ راست ‘لوسٹ اینڈ فاؤنڈ’ ڈیسک سے منسلک ہو سکیں۔ ڈیجیٹل پورٹل پر پبلک ڈیش بورڈ کی سہولت بھی موجود ہے جہاں عام شہری لاوارث پائے جانے والے بچوں کی لائیو فہرست تصاویر کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں جو شفافیت کو یقینی بناتی ہے۔






