پاکستان اور چین کی سدا بہار دوستی اور معاشی تعاون (CPEC 2.0) کے تحت ایک انتہائی انقلابی منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے جس کا مقصد پاکستان میں اے آئی فارمنگ کو فروغ دینا ہے وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے زیر انتظام، چین پاکستان کے 1,000 نوجوان زرعی گریجویٹس اور ماہرین کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، اسمارٹ ایگریکلچر اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی خصوصی تربیت فراہم کر رہا ہے۔ اس پروگرام کا ایک بڑا حصہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے جہاں چینی یونیورسٹیز سے تربیت یافتہ سینکڑوں نوجوان وطن واپس لوٹ کر مقامی کھیتوں اور ریسرچ سینٹرز میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں
اسمارٹ ایگریکلچر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی اہمیت
پاکستان روایتی طور پر ایک زرعی ملک ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں ، پانی کی کمی اور پرانے طریقوں کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اب پاکستان میں اے آئی فارمنگ کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ چین اس پروگرام کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کو ڈیٹا سے چلنے والی زراعت سکھا رہا ہے جس میں سائل سینسرز ، موسم کی پیشن گوئی کے خودکار نظام اور فصلوں کی نگرانی کے لیے جدید الگورتھم شامل ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے کسانوں کو یہ معلوم ہو سکے گا کہ فصل کو کب، کتنا اور کس جگہ پانی یا کھاد کی ضرورت ہے جس سے وسائل کا ضیاع رکے گا اور پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ممکن ہو گا۔
ڈرون ٹیکنالوجی اور فارم میکانائزیشن کی تربیت
چین کے مینوفیکچرنگ اور ریسرچ اداروں جیسے نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی (NWAFU) اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (CAAS) میں، پاکستانی گریجویٹس کو جدید مشینری چلانے کی عملی تربیت دی گئی ہے تربیت کے اہم ترین پہلو درج ذیل ہیں:
ڈرون کا استعمال: فصلوں پر اسمارٹ طریقے سے کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ اور بیماریوں کی جلد تشخیص کرنا
اسپیڈ بریڈنگ : کپاس، گندم اور ہائبرڈ چاول کی ایسی اقسام تیار کرنا جو کم پانی اور سخت موسم میں بھی زیادہ پیداوار دیں
جدید آبپاشی : پانی کی بچت کرنے والے ایسے خودکار نظام جو پودوں کی ضرورت کے مطابق کام کرتے ہیں
"Last year I announced sending 1,000 Pakistani agri-graduates, for modern training to China, they got wonderful training over there and now they have come back and are working in the fields, research and development centres and really committing towards promotion of agriculture… pic.twitter.com/677YLqP0wO
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 21, 2026
ماسٹر ٹرینرز کی واپسی اور ملکی زراعت پر اثرات
چین سے اعلیٰ تربیت مکمل کر کے واپس آنے والے نوجوان اب پاکستان کے طول و عرض میں ماسٹر ٹرینرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں یہ ماہرین مختلف یونیورسٹیوں، ریسرچ اداروں اور براہِ راست فیلڈز میں سیمینارز اور ورکشاپس کے ذریعے مقامی کسانوں کو اسمارٹ فارمنگ کے طریقے سکھا رہے ہیں لائیو اسٹاک اور ڈیری سیکٹر میں بھی جینیٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ دیہی علاقوں میں مویشی پالنے والے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے سی پیک 2.0 کے فریم ورک کے تحت اس اقدام کو زراعت کی مکمل بحالی کا سب سے اہم ستون قرار دیا گیا ہے جو پاکستان کو غذائی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی برآمدات بڑھانے میں سنگ میل ثابت ہو گا






