پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کے صدر کو ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا ہے۔ اس اہم سفارتی خط میں انہوں نے زور دیا ہے کہ جموں و کشمیر پر یو این قراردادیں پر ان کی اصل روح کے مطابق فوری عمل درآمد کروایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے حق خودارادیت کا معاملہ ہے جسے عالمی برادری نے تسلیم کر رکھا ہے۔ پاکستان کا یہ موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف اور صرف کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال
نائب وزیر اعظم نے اپنے خط میں مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں گرتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ وادی میں بھارتی سیکیورٹی افواج کی جانب سے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد اور پرامن احتجاج پر سخت پابندیاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ کالے اور جابرانہ قوانین کے تحت بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے اور کشمیریوں کی آواز کو طاقت کے بل بوتے پر دبانے کی کوششیں جاری ہیں۔
DPM @MIshaqDar50 has called upon @UN Security Council to implement its resolutions on Jammu and Kashmir@ForeignOfficePk #KashmirbaneygaPakistan #IIOJKundersiege #RadioPakistan #news https://t.co/mPtwk0wteo pic.twitter.com/R3VQfqMBCK
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 6, 2026
کشمیری سیاسی قیادت اور صحافیوں پر جاری مظالم
خط میں مقبوضہ کشمیر کی صف اول کی سیاسی قیادت کی مسلسل حراست اور ان پر ہونے والے مظالم کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ نائب وزیر اعظم نے شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرا ب جیسے جرات مند رہنماؤں کا خصوصی ذکر کیا جو طویل عرصے سے بھارتی جیلوں میں غیر قانونی قید کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سچائی کو دنیا کے سامنے لانے والے کشمیری صحافیوں، قانون دانوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کو بھی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مکتوب میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری عوام کی نمائندگی کرنے والی سولہ سیاسی تنظیموں پر بھی غیر قانونی پابندیاں برقرار ہیں، جو جمہوریت کے دعویدار ملک کا اصل چہرہ بے نقاب کرتی ہیں۔
بھارتی جارحیت اور علاقائی امن و سلامتی کو درپیش خطرات
اسحاق ڈار نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ بھارت کا بڑھتا ہوا جارحانہ رویہ اور اشتعال انگیز بیانات جنوبی ایشیا کے امن کو کسی بھی وقت بڑی تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں۔ اس وقت وادی میں تقریباً 7 لاکھ سے 9 لاکھ کے قریب بھارتی فوجی اہلکار تعینات ہیں جس نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کے سب سے بڑے فوجی زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ بھاری فوجی موجودگی کشمیریوں کو خوف زدہ کرنے اور ان کی تحریکِ آزادی کو کچلنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
مزید برآں بھارت کی جانب سے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا التوا میں ڈالنے کا غیر قانونی فیصلہ خطے میں کشیدگی کو نئی بلندیوں پر لے گیا ہے۔ پانی کا یہ تنازع دو جوہری پڑوسیوں کے درمیان ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے ان غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا نوٹس لے کیونکہ جموں و کشمیر پر یو این قراردادیں نافذ نہ ہونے کی صورت میں خطے کا امن مسلسل خطرے میں رہے گا۔






