دنیا بھر میں امن و امان کے قیام، جنگ زدہ خطوں میں معصوم شہریوں کے تحفظ اور سنگین تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ (UN) کے امن مشن ہمیشہ سے ہراول دستے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان مشنز میں نیلے ہیلمٹ (Blue Helmets) پہنے پاکستانی افواج کے جری جوانوں اور افسران نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بے مثال شجاعت کی بدولت ایک لازوال تاریخ رقم کی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ عسکری دستے بھیجنے والا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ یہ پوزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن اور انسانیت کا کتنا بڑا علمبردار ہے۔
امن مشنز کی تاریخی شروعات اور اہم سنگِ میل
اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کا کردار کوئی نیا نہیں بلکہ یہ شراکت داری دہائیوں پر محیط ہے جو ملکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے۔ پاکستان نے اپنے اس تاریخی سفر کا آغاز 1960 میں کیا جب پہلی بار پاکستانی فوج کے دستوں کو جمہوریہ کانگو (Congo) میں خانہ جنگی کو روکنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے بھیجا گیا۔
اس پہلے مشن کی کامیابی کے بعد سے اب تک پاکستان نے دنیا کے 29 ممالک میں 46 سے زائد انتہائی حساس اور خطرناک ترین یو این مشنز میں حصہ لیا ہے۔ ان مشنز میں صومالیہ، روانڈا، سیرالیون، لائبیریا، دارفور، ہیٹی، کمبوڈیا اور بوسنیا جیسے شدید جنگ زدہ خطے شامل ہیں۔ اب تک پاکستانی فوج، فضائیہ، بحریہ اور پولیس کے 2 لاکھ 35 سے زائد اہلکار ان بین الاقوامی مشنز میں اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں جو دنیا کی کسی بھی فوج کی طرف سے دی جانے والی سب سے بڑی قربانیوں اور خدمات میں سے ایک ہے۔
پاکستانی پیس کیپرز کی عسکری مہارت اور عالمی اعتراف
پاکستانی دستے بین الاقوامی محاذوں پر صرف روایتی عسکری فرائض یا گشت ہی سرانجام نہیں دیتے بلکہ وہ ایک مکمل بحالی فورس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کی دیگر سرگرمیوں میں مقامی آبادی کو طبی امداد کی فراہمی، سڑکوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور قدرتی آفت زدہ علاقوں میں ہنگامی ریلیف آپریشنز شامل ہیں۔
پیشہ ورانہ غیر جانبداری: کٹھن ترین جغرافیائی حالات، سخت موسم اور لاقانونیت کے باوجود پاکستانی فوجیوں نے ہمیشہ عالمی قوانین کی پاسداری اور غیر معمولی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔
عالمی سطح پر پذیرائی: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، مختلف ممالک کے سربراہان اور بین الاقوامی عسکری مبصرین نے بارہا پاکستانی پیس کیپرز کے عزم اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو کھلے دل سے سراہا ہے۔
پاکستانی خواتین کا قابلِ فخر کردار: جدید اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت پاکستان نے امن مشنز میں اپنی خواتین افسران (Female Engagement Teams) کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا ہے۔ ان خواتین ٹیموں نے کانگو اور وسطی افریقہ میں مقامی خواتین کی نفسیاتی مدد اور کمیونٹی بحالی کے شعبوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
عالمی امن کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیاں
دنیا کے مختلف خطوں کو جنگ کے شعلوں سے نکالنے اور وہاں استحکام لانے کا یہ سفر قربانیوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ خطرناک ترین محاذوں پر اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران پاکستان کے 180 سے زائد نیلے ہیلمٹ پہننے والے سپاہیوں اور افسران نے جامِ شہادت نوش کیا۔
ان شہداء میں وہ جری جوان بھی شامل ہیں جنہوں نے صومالیہ (موغادیشو) کے معرکے میں پھنسے ہوئے امریکی عسکری دستوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور وہ افسران بھی جو افریقہ میں ہیلی کاپٹر گرنے اور باغیوں کے گھات لگا کر کیے گئے حملوں کا نشانہ بنے۔ اقوام متحدہ ہر سال ان شہداء کو دنیا کے سب سے معتبر عسکری اعزاز "داگ ہیمرشیلڈ میڈل” (Dag Hammarskjöld Medal) سے نوازتا ہے جو ان کی عظیم قربانی کا عالمی اعتراف ہے۔
امن کا پائیدار اور معتبر سفیر
اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کا کردار رہتی دنیا تک یہ ثابت کرتا رہے گا کہ پاکستان ایک ذمہ دار، باصلاحیت اور امن پسند ایٹمی قوت ہے۔ اپنے تمام تر اندرونی چیلنجز کے باوجود، عالمی برادری کے ساتھ مل کر دنیا کو ایک محفوظ جگہ بنانے کے لیے پاکستان کا عزم کبھی کمزور نہیں ہوا۔ نیلے ہیلمٹ پہننے والے یہ پاکستانی جوان دنیا بھر کے مظلوموں اور جنگ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے امید اور تحفظ کا دوسرا نام بن چکے ہیں۔






