ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے پاکستان بھر کی سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں ایم فل، ایم ایس (لیول 7) اور پی ایچ ڈی (لیول 8) کے پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں داخلے کے لیے نافذ کی جانے والی سینٹرلائزڈ اینٹری ٹیسٹ پالیسی کو باقاعدہ طور پر مؤخر کر دیا ہے۔ مئی 2026 میں جاری ہونے والے آفیشل نوٹیفیکیشن کے مطابق ایچ ای سی کے تحت ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ETC) کے ذریعے لیے جانے والے لازمی HAT (ہائر ایجوکیشن ایپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ) اور GRE جنرل/سبجیکٹ ٹیسٹ اب فال 2026 کے بجائے فال 2027 سے لاگو ہوں گے۔
اس اچانک فیصلے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند ہزاروں طلباء اس الجھن کا شکار ہیں کہ آیا موجودہ سیمسٹر (فال 2026) کے داخلوں کے لیے HAT، GAT یا GRE امتحانات اب بھی پاس کرنا لازمی ہیں یا نہیں؟ اس تفصیلی آرٹیکل میں ایچ ای سی کی نئی ٹیسٹ پالیسی کے التوا کی وجوہات اور موجودہ تعلیمی سیشن کے قوانین کی مکمل وضاحت موجود ہے۔
پالیسی میں تاخیر کی اصل وجہ کیا ہے؟
ایچ ای سی نے اس سے قبل مئی 2026 کے وسط میں ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت تمام یونیورسٹیوں کو اپنے ذاتی داخلہ ٹیسٹ لینے سے روک دیا گیا تھا اور صرف ایچ ای سی-ای ٹی سی (ETC) کے مرکزی ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس فیصلے کے فوراً بعد پاکستان کی متعدد بڑی یونیورسٹیوں اور ڈگری دینے والے اداروں نے کمیشن سے رابطہ کیا اور موقف اختیار کیا کہ انہیں اتنے قلیل وقت میں اس نئے مرکزی نظام کو یکسر اپنانے میں شدید انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔
یونیورسٹیوں کی جانب سے اضافی وقت مانگے جانے کے بعد ایچ ای سی کوآرڈینیشن ڈویژن نے ہمدردانہ غور کرتے ہوئے اس پالیسی کا نفاذ ایک سال کے لیے آگے بڑھا دیا ہے تاکہ تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے اپنے سسٹم کو اس کے مطابق تیار کر سکیں۔
فال 2026 کے داخلے: کیا ٹیسٹ اب بھی لازمی ہے؟
پالیسی مؤخر ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایم فل یا پی ایچ ڈی میں بغیر کسی ٹیسٹ کے داخلہ مل جائے گا۔ اس التوا کا سادہ اور واضح مطلب درج ذیل ہے:
یونیورسٹیوں کے اپنے ٹیسٹ بحال: فال 2026 کے تعلیمی سیشن کے لیے تمام پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں اپنے پرانے طریقہ کار کے مطابق خود اینٹری ٹیسٹ (GAT جنرل یا سبجیکٹ کے مساوی) منعقد کر سکتی ہیں۔
این ٹی ایس (NTS GAT) کی قبولیت: گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی (GEP) کے تحت نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کا لیا جانے والا GAT جنرل یا دیگر منظور شدہ ٹیسٹنگ باڈیز کے امتحانات اب بھی عارضی طور پر قابلِ قبول رہیں گے۔
پاسنگ مارکس کا معیار: ایم فل/ایم ایس میں داخلے کے لیے ٹیسٹ میں کم از کم 50 فیصد نمبر اور پی ایچ ڈی کے لیے کم از کم 60 فیصد نمبر حاصل کرنے کی پرانی شرط اب بھی برقرار ہے۔
فال 2027 سے کیا تبدیلیاں آئیں گی؟
فال 2027 سے ایچ ای سی کی نئی ٹیسٹ پالیسی مکمل طور پر نافذ العمل ہو جائے گی جس کے بعد پورے ملک میں داخلوں کا ایک یکساں ڈیجیٹل فریم ورک کام کرے گا:
یونیورسٹی ٹیسٹ پر مکمل پابندی: کوئی بھی یونیورسٹی گریجویٹ لیول پر اپنا الگ ٹیسٹ بنانے یا لینے کی مجاز نہیں ہوگی۔
صرف ETC ٹیسٹ کی اہلیت: داخلہ صرف اور صرف ایچ ای سی کی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ETC) کے تحت لیے گئے HAT جنرل یا مخصوص سبجیکٹ ٹیسٹ کی بنیاد پر ہوگا۔
شفافیت اور میرٹ: اس سینٹرلائزڈ سسٹم کا مقصد ملک بھر میں گریجویٹ داخلوں میں شفافیت اور یکسانیت لانا ہے۔






