پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ اسی سلسلے میں جامعات میں قائم آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ اس سال پاکستان کی جامعات کی اورک رینکنگ میں مجموعی طور پر 95 پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں کا سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ اس درجہ بندی کا اصل مقصد یونیورسٹیوں کی جانب سے کی جانے والی تحقیق، نئی ایجادات اور ان کو صنعتی سطح پر کارآمد بنانا ہے۔
پاکستان کی جامعات کی اورک رینکنگ کا معیار اور کیٹیگریز
ایچ ای سی اپنی اورک پالیسی کے تحت جامعات کو چار بنیادی کیٹیگریز یعنی W، X، Y اور Z میں تقسیم کرتا ہے۔ کارکردگی کو جانچنے کے لیے درج ذیل کلیدی اشاریے (KPIs) مقرر کیے گئے ہیں:
(Research Excellence): فیکلٹی کی جانب سے بین الاقوامی جرائد میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے۔
انوویشن اور کمرشلائزیشن: پیٹنٹ فائل کرنا اور سائنسی تحقیقات کو مارکیٹ پروڈکٹس میں تبدیل کرنا۔
انسانی وسائل اور آپریشنز: اورک مینیجرز کی اہلیت اور تنظیمی ڈھانچہ۔
صنعتی روابط اور فنڈنگ: لوکل انڈسٹری کے ساتھ تعاون اور بیرونی گرانٹس حاصل کرنا۔
اس سال 95 اداروں کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ صرف 7 یونیورسٹیاں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ ترین ‘W’ کیٹیگری تک پہنچ پائیں۔ اس رپورٹ کی مکمل گائیڈ لائنز HEC ORIC Policy Portal پر آن لائن دیکھی جا سکتی ہیں۔
نمایاں جامعات کی کارکردگی اور رینکنگ پوزیشن
رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ سیکٹر میں The University of Lahore نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ‘W’ کیٹیگری حاصل کی اور ملک بھر کی ٹاپ 3 یونیورسٹیوں میں جگہ بنائی۔ ان کی کارکردگی کا اسکور ہیومن ریسورس میں 100% اور کمرشلائزیشن میں 83.33% رہا۔
اس کے علاوہ پبلک سیکٹر کی معروف جامعات جیسے University of Agriculture Faisalabad اور این ای ڈی یونیورسٹی (NED) کراچی نے بھی اپنی بہترین کارکردگی برقرار رکھی۔ دوسری طرف پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) اسلام آباد نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.5 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ کر کے ‘X’ کیٹیگری میں 15 ویں پوزیشن حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی نے بھی ریسرچ پیٹنٹس اور کانفرنسز کی بدولت ‘X’ کیٹیگری حاصل کر کے اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔
| یونیورسٹی کا نام | حاصل کردہ کیٹیگری | کارکردگی کا درجہ |
| یونیورسٹی آف لاہور (UOL) | W Category | ٹاپ پرائیویٹ یونیورسٹی |
| یونیورسٹی آف ایگریکلچر، فیصل آباد | W Category | بہترین کارکردگی (پبلک سیکٹر) |
| این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ، کراچی | W Category | بہترین کارکردگی (انجینئرنگ) |
| پنجاب یونیورسٹی (PU)، لاہور | X Category | تسلی بخش تحقیقی سرگرمیاں |
| پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس | X Category | نمایاں بہتری (15 ویں پوزیشن) |
ملکی معیشت پر اورک رینکنگ کے اثرات
پاکستان کی جامعات کی اورک رینکنگ محض ایک سالانہ درجہ بندی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کو نالج بیسڈ اکانومی (علم پر مبنی معیشت) بنانے کی بنیاد ہے۔ وفاقی حکومت کے ادارے Ministry of Federal Education and Professional Training کے مطابق جب جامعات انڈسٹری کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ریسرچ کرتی ہیں تو اس سے مقامی صنعت کو فروغ ملتا ہے اور بیرونی درآمدات پر انحصار کم ہوتا ہے۔ اعلیٰ درجہ بندی حاصل کرنے والے اورک دفاتر کو ایچ ای سی کی طرف سے اضافی فنڈنگ اور بین الاقوامی گرانٹس کے مواقع بھی دیے جاتے ہیں۔ایچ ای سی کی یہ تفصیلی ویلیڈیشن رپورٹ واضح کرتی ہے کہ پاکستان کی جامعات میں تحقیق کا رجحان بڑھ رہا ہے تاہم 95 میں سے صرف 7 یونیورسٹیوں کا ٹاپ کیٹیگری میں آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دیگر اداروں کو اپنی کمرشلائزیشن اور انڈسٹری لنکیجز کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ طلباء اور محققین کو بھی چاہیے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی بھی ادارے کا انتخاب کرتے وقت اس کی اورک رینکنگ کو لازمی چیک کریں۔
مزید الرٹس اور اہم اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






