Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

پی ٹی اے کا نیا قانون: شناختی کارڈ پر اضافی سم بلاک کرنے کا طریقہ

بلال رشید by بلال رشید
مئی 25, 2026
in آج کی اہم خبریں – پاکستان اور دنیا کی سرخیاں اور بریکنگ نیوز, پاکستان کی سیاسی خبریں – حکومت، اپوزیشن اور انتخابی اپ ڈیٹس, تعلیمی خبریں – اسکول، یونیورسٹی، امتحانات اور تعلیمی پالیسیاں
پی ٹی اے کا نیا قانون

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے ملک میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل جرائم، غیر قانونی سمز کے پھیلاؤ اور شناختی کارڈز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پی ٹی اے کا نیا قانون متعارف کراتے ہوئے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی اے کے تحت اب بائیومیٹرک تصدیق سے فعال کی جانے والی کسی بھی موبائل سم کو فوری طور پر ڈس اون (صارف کی ملکیت سے ختم) یا ٹرانسفر نہیں کیا جا سکے گا۔ اس نئی پالیسی کے مطابق اب سم کارڈ منسوخ کروانے کی مدت کو بڑھا کر پورے 1 سال (365 دن) کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم ایکٹیویٹ ہوتی ہے تو آپ اسے اگلے 12 ماہ تک عام طریقے سے بند یا ٹرانسفر نہیں کروا سکیں گے۔

اگر آپ بھی اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تعداد جاننا چاہتے ہیں یا کسی غیر قانونی سم کو بلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس تفصیلی گائیڈ میں مکمل طریقہ کار موجود ہے۔

پی ٹی اے کی نئی پالیسی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مختلف فرنچائزز اور ریٹیلرز معصوم شہریوں کے فنگر پرنٹ لے کر ان کے نام پر اضافی سمز ایکٹیویٹ کر دیتے تھے جو بعد میں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہوتی تھیں۔ پہلے سم منسوخ کروانے کی مدت صرف 60 دن تھی۔ تاہم اب پی ٹی اے کا نیا قانون آنے کے بعد شہریوں کو بائیومیٹرک تصدیق دیتے وقت انتہائی احتیاط برتنی ہوگی کیونکہ ایک بار سم ایکٹیویٹ ہونے کے بعد اس کی ملکیت ایک سال تک تبدیل نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  Infinix Note 60 Ultra اسپیکس، فیچرز اور قیمت پاکستان میں

اس کے علاوہ پی ٹی اے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جن شہریوں کے قومی شناختی کارڈز (CNIC) ایکسپائر، کینسل یا فوت شدگان کے نام پر ہیں ان کی سمز کو بھی مرحلہ وار بلاک کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا نادرا سے اپنا ریکارڈ اپ ڈیٹ رکھنا اب لازمی ہو چکا ہے۔

شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سمز چیک کرنے کا طریقہ

اپنے شناختی کارڈ پر موجود سمز کی تعداد چیک کرنے کے لیے آپ نیچے دیے گئے دو آفیشل طریقوں پر عمل کر سکتے ہیں:

ایس ایم ایس (SMS) کے ذریعے: اپنے موبائل کے رائٹنگ میسج میں جائیں، اپنا 13 ہندسوں کا قومی شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش/ہائفن کے) لکھیں اور اسے 668 پر بھیج دیں۔ آپ کو ایک جوابی میسج موصول ہوگا جس میں نیٹ ورک کے لحاظ سے (Jazz, Telenor, Zong, Ufone) سمز کی کل تعداد بتائی جائے گی

آن لائن پورٹل کے ذریعے: آپ کسی بھی وقت اپنے کمپیوٹر یا موبائل سے آفیشل PTA SIM Information System ویب سائٹ پر جا کر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کر کے سیکنڈز میں اپنی سمز کا ڈیٹا دیکھ سکتے ہیں۔

غیر قانونی یا اضافی سمز کو بلاک کرنے کا مرحلہ وار گائیڈ

اگر 668 کے ڈیٹا میں کوئی ایسی سم ظاہر ہو رہی ہے جو آپ کے استعمال میں نہیں ہے یا وہ غیر قانونی طور پر ایکٹیویٹ کی گئی ہے تو اسے بلاک کرنے کے لیے درج ذیل مراحل پر عمل کریں:

فرنچائز کا انتخاب

انٹرنیٹ یا میسج کے ذریعے معلوم کریں کہ غیر قانونی سم کس نیٹ ورک (مثلاً جاز، زونگ وغیرہ) پر ہے آپ کو اسی متعلقہ موبائل کمپنی کی آفیشل فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر جانا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  Border 2 Box Office: ایڈوانس بکنگ کے بعد 40 کروڑ کی اوپننگ متوقع

دستاویزات اور بائیومیٹرک

اپنا اصل شناختی کارڈ (Original CNIC) اپنے ساتھ لازمی لے کر جائیں۔ فرنچائز کا نمائندہ آپ کا شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد سم ڈس اون کرنے کا فارم بھرے گا اور آپ کی بائیومیٹرک تصدیق (انگوٹھے کا نشان) لے گا۔

چارجز اور رعایت

عام حالات میں اگر کوئی سم 6 ماہ (180 دن) سے کم پرانی ہو تو اسے ڈس اون کرنے پر 200 روپے تک کے چارجز لاگو ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ سم آپ کی مرضی کے بغیر کسی فراڈ کے ذریعے نکالی گئی ہے تو آپ فرنچائز یا PTA Complaint Management System پر شکایت درج کروا کر اس فیس سے استثنیٰ (Waiver) حاصل کر سکتے ہیں۔

بلاک کرنے کی درخواست جمع ہونے کے بعد 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر وہ سم آپ کے نام سے ہمیشہ کے لیے ہٹا دی جاتی ہے۔ اپنے ڈیجیٹل تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر چند ماہ بعد اپنا شناختی کارڈ ریکارڈ لازمی چیک کرتے رہیں۔

بلال رشید

بلال رشید

بلال رشید ایک شہری امور اور سیاسی تجزیہ کار ہیں جو مقامی طرزِ حکمرانی اور شہری ترقی کے معاملات پر تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں شہروں کی منصوبہ بندی، بلدیاتی سیاست اور عوامی مفاد سے متعلق موضوعات پر مبنی ہوتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

پاکستان ویزا استثنی معاہدے

پاکستان کا درجنوں دوست ممالک کے ساتھ ویزا استثنیٰ کا تاریخی اسٹریٹجک معاہدہ، ایف آئی اے کو لسٹ جاری

ستمبر 21, 2026
اے جے کے اور جی بی 5G سروسز

اے جے کے اور جی بی 5G سروسز کا آغاز: ایس سی او نے سات اہم مقامات پر ٹرائل شروع کر دیا

ستمبر 19, 2026
وزارت خارجہ سکینڈل انکوائری

وزارت خارجہ سکینڈل انکوائری: اسحاق ڈار کا دستاویزات کی تصدیق میں خرد برد کے خلاف بڑا ایکشن

ستمبر 19, 2026
وزیر اعظم پٹرول ریلیف اسکیم

وزیر اعظم پٹرول ریلیف اسکیم: 800cc گاڑیوں اور موٹر سائیکل مالکان کے لیے بڑی خوشخبری

ستمبر 19, 2026
اسلام آباد لانگ مارچ پابندی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی احتجاجی مارچ پر مکمل پابندی

ستمبر 21, 2026
سندھ جینڈر پیرٹی رپورٹ

حکومتِ سندھ کی جانب سے صوبے کی پہلی جینڈر پیرٹی رپورٹ کا باقاعدہ اجرا،  تفصیلی رپورٹ جاری

ستمبر 21, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

پاکستان ویزا استثنی معاہدے

پاکستان کا درجنوں دوست ممالک کے ساتھ ویزا استثنیٰ کا تاریخی اسٹریٹجک معاہدہ، ایف آئی اے کو لسٹ جاری

ستمبر 21, 2026
اے جے کے اور جی بی 5G سروسز

اے جے کے اور جی بی 5G سروسز کا آغاز: ایس سی او نے سات اہم مقامات پر ٹرائل شروع کر دیا

ستمبر 19, 2026
وزارت خارجہ سکینڈل انکوائری

وزارت خارجہ سکینڈل انکوائری: اسحاق ڈار کا دستاویزات کی تصدیق میں خرد برد کے خلاف بڑا ایکشن

ستمبر 19, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.