امریکہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے لیے ایک انتہائی فخر اور مسرت کا موقع اس وقت سامنے آیا جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے منعقدہ یومِ آزادی پاکستان کی شاندار تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی۔ نیویارک کے پہلے مسلم اور تارکین وطن میئر کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے ظہران ممدانی نے بروک لین کے کونی آئی لینڈ ایونیو پر واقع علامہ اقبال کمیونٹی سینٹر کے سالانہ پاکستان ڈے میلا میں شرکت کر کے پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اس رنگا رنگ تقریب میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی فیملیز، نوجوانوں، بچوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جہاں پورا پنڈال پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔
علامہ اقبال کمیونٹی سینٹر کے سالانہ میلے میں میئر کا پرتپاک استقبال
جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی تقریب کے مقام پر پہنچے تو کمیونٹی رہنماؤں اور عوام نے ان کا انتہائی پرتپاک اور روایتی انداز میں استقبال کیا۔ میئر کے ہمراہ نیویارک سٹی گورنمنٹ کے متعدد اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جن میں پبلک ایڈووکیٹ جومانے ولیمز میئرز آفس آف امیگرنٹ افیئرز کی کمشنر فائزہ علی اور ٹیکسی اینڈ لیموزین کمشنر مڈوری ویلڈیویا شامل تھے۔
تقریب کے دوران علامہ اقبال کمیونٹی سینٹر کے چیئرمین محمد ناصر اعوان اور یوتھ ونگ کے ڈائریکٹر حسام ناصر اعوان نے میئر کا شکریہ ادا کیا اور نیویارک کی تعمیر و ترقی میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے ان کی آواز بلند کرنے پر انہیں سراہا۔
پاکستانی تارکینِ وطن کی خدمات کو شاندار خراجِ تحسین
میئر ظہران ممدانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اور بعد میں اپنے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے نیویارک شہر کے لیے پاکستانی کمیونٹی کے کردار کی دل کھول کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی برادری کو ہر روز مناتے ہیں جن کی کشادہ دلی، پختہ عزم اور بہتر زندگی کے خوابوں نے اس شہر کو ایک خوبصورت شکل دی ہے جسے وہ اب اپنا گھر کہتے ہیں۔
اپنے گہرے جذباتی اور تفصیلی خطاب میں میئر نے پاکستانی کمیونٹی کی مختلف شعبوں میں محنت کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا:
پاکستانی وکلاء: انہوں نے ان وکلاء کی تعریف کی جو نیویارک میں بے سہارا اور پریشان حال لوگوں کے حقوق کے لیے بغیر کسی معاوضے کے قانونی جنگ لڑتے ہیں۔
پاکستانی ڈاکٹرز: انہوں نے ان طبی ماہرین کا ذکر کیا جو ہر اس شخص کے لیے اپنے دروازے کھولتے ہیں جنہیں نظام نے مسترد کر دیا ہو۔
ٹیکسی اور کنسٹرکشن ورکرز: میئر نے دن رات سخت محنت کرنے والے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز اور تعمیراتی ملازمین کو سراہا جو تھکن کے باوجود اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے انتھک محنت کرتے ہیں۔
تقریب کے ثقافتی رنگ اور جیو پولیٹیکل اہمیت
اس آزادی میلے میں پاکستانی ثقافت کے خوبصورت رنگ دیکھنے کو ملے۔ روایتی کھانوں کے اسٹالز، لباس اور موسیقی نے نیویارک کے ماحول کو پاکستانی رنگ میں رنگ دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریب میں کلاسک صوفی اور پاپ گیت گائے گئے جنہوں نے شرکاء کا لہو گرما دیا۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میئر ممدانی اپنے عوامی فلاحی اقدامات جیسے کہ "پائیڈ اے ٹیرے” (Pied-à-terre) لگژری ٹیکس کے نفاذ اور مڈل کلاس شہریوں کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے امریکی میڈیا کی سرخیوں میں بنے ہوئے ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ان کی یہ ملاقات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ نیویارک کی متنوع ثقافت اور تارکین وطن کو شہر کا سب سے بڑا اثاثہ سمجھتے ہیں۔






