پاکستان کرکٹ کے لیے آج کی صبح ایک بڑے صدمے کے ساتھ طلوع ہوئی ہے۔ قومی ٹیم کے تجربہ کار آل راؤنڈر محمد نواز کا ڈرگ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان کے بین الاقوامی کیریئر پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے پی سی بی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیے جانے کے بعد کرکٹ حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
آج، 23 اپریل 2026 کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق محمد نواز کے نمونے میں ممنوعہ اشیاء (Recreational Drugs) کے اثرات پائے گئے ہیں۔ یہ ٹیسٹ رواں سال بھارت اور سری لنکا میں کھیلے گئے T20 ورلڈ کپ 2026 کے دوران لیے گئے تھے۔ آئی سی سی کے اینٹی ڈوپنگ قوانین کے تحت اس نوعیت کے مثبت ٹیسٹ کے بعد کھلاڑی کو سخت ترین تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
محمد نواز ڈرگ ٹیسٹ: حقیقت کیا ہے؟
رپورٹس کے مطابق محمد نواز نے ورلڈ کپ کے تمام سات میچز میں شرکت کی تھی جس کے دوران آئی سی سی کے ڈوپنگ کنٹرول افسران نے معمول کے مطابق ان کا یورین سیمپل لیا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے بدھ کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کو مطلع کیا کہ نواز کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
ایف بی آر کے حکام کی طرح پی سی بی نے بھی اس معاملے کو شفاف رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی سی بی کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ بورڈ نے کھلاڑی کی مکمل میڈیکل ہسٹری آئی سی سی کو فراہم کر دی ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے "ڈیو پراسیس” (Due Process) شروع کر دیا گیا ہے۔
کیریئر پر اثرات: سرے کاؤنٹی معاہدہ ختم
اس تنازع کا پہلا بڑا دھچکا محمد نواز کے انگلش کاؤنٹی معاہدے کو لگا ہے۔ نواز انگلینڈ میں ٹی 20 بلاسٹ کے لیے سرے کاؤنٹی کرکٹ کلب کے ساتھ منسلک ہونے والے تھے جس کے لیے پی سی بی نے این او سی (NOC) بھی جاری کر دیا تھا۔ تاہم ڈرگ ٹیسٹ مثبت آنے کی خبر منظرِ عام پر آتے ہی سرے نے ان کے ساتھ معاہدہ فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔
اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ نواز نے جان بوجھ کر ممنوعہ اشیاء کا استعمال کیا ہے تو ان پر دو سے چار سال تک کی پابندی لگ سکتی ہے، جو 32 سالہ کرکٹر کے لیے کیریئر کا اختتام ثابت ہو سکتی ہے۔
ماضی کے واقعات اور قانونی پہلو
پاکستان کرکٹ میں ڈوپنگ کا یہ پہلا کیس نہیں ہے۔ ماضی میں شعیب اختر، محمد آصف اور یاسر شاہ جیسے کھلاڑی بھی ڈرگ ٹیسٹ میں ناکامی کے باعث پابندیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ نیوزرپورٹ کے مطابق پی سی بی فی الحال آئی سی سی کے حتمی فیصلے کا انتظار کر رہا ہے، اور تب تک نواز کو پی ایس ایل 11 (PSL 11) میں ملتان سلطانز کی جانب سے کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے۔






