Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

شمالی وزیرستان کے چلغوزے کے باغات کس کی ملکیت ہیں؟ حقیقت جانیے

حرا خلیل by حرا خلیل
فروری 12, 2025
in آج کی اہم خبریں – پاکستان اور دنیا کی سرخیاں اور بریکنگ نیوز, علاقائی اور صوبائی خبریں – پنجاب، سندھ، KPK اور بلوچستان
شمالی وزیرستان کے چلغوزے کے باغات کس کی ملکیت ہیں؟

سوشل میڈیا پر چلغوزے کے باغات سے متعلق دعوے بے بنیاد

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کہ پاکستان آرمی نے شمالی وزیرستان میں ایشیا کا سب سے بڑا چلغوزے کا باغ قائم کیا ہے اور اس سے سالانہ 2 ارب روپے کی آمدنی حاصل کر رہی ہے، غلط ثابت ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر چلغوزے کے باغات سے متعلق دعوے بے بنیاد

شوال ویلی کے باغات مقامی قبائل کی ملکیت ہیں

مقامی حکام اور باغات کے مالکان نے تصدیق کی ہے کہ شمالی وزیرستان کے چلغوزے کے جنگلات مکمل طور پر مقامی قبائل کی ملکیت ہیں، نہ کہ پاکستان آرمی کے۔ میران شاہ کے اسسٹنٹ کمشنر خالد عمران کے مطابق، یہ زمین وزیر اور محسود قبائل کی نجی ملکیت ہے اور حکومت کے پاس اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

فوج کا کردار صرف سیکیورٹی تک محدود ہے

حکام کے مطابق، فوج کا کردار صرف علاقے کی سیکیورٹی فراہم کرنا ہے، جبکہ مقامی لوگ چلغوزے کے موسم میں خصوصی اجازت سے باغات میں جا کر فصل کاٹ سکتے ہیں۔ ضلع شمالی وزیرستان کے محکمہ جنگلات کے افسر سعید انور نے بھی تصدیق کی کہ فوج باغات کی دیکھ بھال یا چلغوزے کی پیداوار میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔

آن لائن ویڈیو میں فوج کی ملکیت کا ذکر نہیں

شوال ویلی میں ریکارڈ کی گئی ایک آن لائن ویڈیو میں بھی کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ فوج ان باغات کی مالک ہے یا اس سے آمدنی حاصل کرتی ہے۔ ویڈیو میں فرنٹیئر کور کے ایک افسر نے صرف چلغوزے کی اعلیٰ کوالٹی پر بات کی تھی، لیکن کچھ صارفین نے اس کا سیاق و سباق تبدیل کر کے غلط دعوے پھیلائے۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹویوٹا اپ ڈیٹ 2026 – ٹویوٹا فارچیونر میں نیا کیا ہے؟
آن لائن ویڈیو میں فوج کی ملکیت کا ذکر نہیں

چلغوزے کے کاروبار میں فوج کا کوئی مالی فائدہ شامل نہیں

چلغوزے کے ایک مقامی مالک ملک نیک امل خان وزیر نے بھی سوشل میڈیا پر پھیلنے والے دعووں کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ باغات صدیوں سے مقامی قبائل کے زیرِ ملکیت ہیں اور یہاں کی پیداوار 80 فیصد چین اور مشرق وسطیٰ کو برآمد کی جاتی ہے۔

ماہرین، سرکاری حکام، اور مقامی مالکان کے بیانات کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ فوج ان باغات کی مالک نہیں ہے اور یہ دعویٰ سراسر غلط اور گمراہ کن ہے۔

حرا خلیل

حرا خلیل

حرا خلیل ایک لائف اسٹائل اور تفریحی صحافی ہیں جو پاکستانی فلم اور ٹی وی انڈسٹری سے متعلق لکھتی ہیں۔ ان کی تحریریں ثقافتی رجحانات، فنونِ لطیفہ، اور شوبز دنیا کی تازہ ترین سرگرمیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

بٹگرام چیئر لفٹ ریسکیو ڈاکومنٹری

بٹگرام چیئر لفٹ ریسکیو ڈاکومنٹری پاکستانی سنیماؤں میں ریلیز کے لیے تیار

ستمبر 4, 2026
یو اے ای کا نیا ڈیجیٹل ورک پرمٹ

سمندر پار ملازمتوں کے لیے بڑی خوشخبری: یو اے ای کا نیا ڈیجیٹل ورک پرمٹ متعارف

ستمبر 4, 2026
کراس بارڈر بچوں کی کسٹڈی

وفاقی آئینی عدالت نے کراس بارڈر بچوں کی کسٹڈی کے لیے سخت اور نئے قوانین جاری کر دیے

ستمبر 4, 2026
بلدیاتی ترمیمی بل کی منظوری

اسلام آباد کے لیے بڑی پیش رفت: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ سے بلدیاتی ترمیمی بل کی منظوری

ستمبر 4, 2026
امن و سلامتی میں خواتین کا کردار

اقوام متحدہ میں پاکستان کا بڑا اعلان: امن و سلامتی میں خواتین کی قیادت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ

ستمبر 4, 2026
ماہانہ ڈیڑھ لاکھ کمانے کا طریقہ

نوجوانوں کے لیے بڑی خوشخبری: آئی ٹی وزارت نے پاکستان میں ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے کمانے کا آسان طریقہ بتا دیا

ستمبر 3, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

بٹگرام چیئر لفٹ ریسکیو ڈاکومنٹری

بٹگرام چیئر لفٹ ریسکیو ڈاکومنٹری پاکستانی سنیماؤں میں ریلیز کے لیے تیار

ستمبر 4, 2026
یو اے ای کا نیا ڈیجیٹل ورک پرمٹ

سمندر پار ملازمتوں کے لیے بڑی خوشخبری: یو اے ای کا نیا ڈیجیٹل ورک پرمٹ متعارف

ستمبر 4, 2026
کراس بارڈر بچوں کی کسٹڈی

وفاقی آئینی عدالت نے کراس بارڈر بچوں کی کسٹڈی کے لیے سخت اور نئے قوانین جاری کر دیے

ستمبر 4, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.