پاکستان کے مالیاتی ریگولیٹری انفراسٹرکچر، میکرو اکانومی اور اوورسیز ریمیٹنس کے تزویراتی کوریڈورز سے ایک انتہائی اہم، انقلابی اور سب سے بڑا فنانشل بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونی ممالک سے قانونی اور بینکنگ چینلز کے ذریعے رقوم بھیجنے والے پاکستانیوں کے اہل خانہ کے لیے پاسبان ریمیٹنس ریوارڈ اسکیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
اس میگا اسکیم کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر اسٹیٹ بینک انعام اسکیم کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک لائیو ہو چکا ہے۔ اس انقلابی پراجیکٹ کا بنیادی ہدف ہنڈی اور حوالہ جیسے مینوئل و غیر قانونی راستوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا، اور ملک میں کیش لیس ریوینیو کے فلو کو ریکارڈ بلندیوں پر پہنچانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل کسٹمرز (صارفین) کو مجموعی طور پر 16 ارب روپے کے سالانہ انعام پول سے 10 کروڑ روپے کا پہلا انعام اور دیگر کروڑوں کے نقد انعامات جیتنے کا اسمارٹ موقع فراہم کیا جا رہا ہے جو ملکی معاشی اشاریوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔
پاسبان اسکیم میں شامل ہونے کا معیار
اسٹیٹ بینک کے مینیجرز نے اس پوری قرعہ اندازی کو 100 فیصد سوفٹ وئیر بیسڈ اور پیپر لیس بنایا ہے تاکہ مینوئل ردوبدل یا کسی بھی سفارش کے کسٹمز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
اس اسکیم کے تحت اہلیت کا معیار درج ذیل خطوط پر وضع کیا گیا ہے:
مسلسل تین ماہ کی شرط: ریمیٹنس وصول کرنے والے کسٹمر کے لیے لازم ہے کہ وہ ایک سہ ماہی (کوارٹر) کے اندر مسلسل تین مہینوں تک ہر ماہ کم از کم 100 امریکی ڈالر ($100) یا اس کے مساوی رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں لائیو وصول کرے۔ مثال کے طور پر اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2026 میں مسلسل فنڈز پے کرنے والے صارفین جنوری کی قرعہ اندازی کے اہل ہوں گے۔
ڈیجیٹل انٹری نمبرز کا حصول: ہر 100 ڈالر کی وصولی پر صارف کو ایک غیر منتقلی ڈیجیٹل انٹری نمبر الاٹ کیا جائے گا۔ رقم جتنی زیادہ ہوگی، انٹری لاگز کی تعداد اسی تناسب سے خودکار طور پر آٹو جنریٹ ہو کر بڑھ جائے گی۔ (مثال کے طور پر اگر اکتوبر میں 100،نومبرمیں200 اور دسمبر میں 300$ آئے، تو کل 6 انٹریز لاک ہوں گی)۔
4 ارب روپے کا سہ ماہی ٹیرف رول اور انعامات کا مکمل بریک ڈاؤن
اس فنانشل فریم ورک کے تحت اسٹیٹ بینک ہر تین ماہ بعد 2,521 خوش قسمت فاتحین میں 4 ارب روپے کے نقد انعامات کیش لیس موڈ میں تقسیم کرے گا۔ ایک سال کے دوران 4 قرعہ اندازیوں کے ذریعے 10,000 سے زائد کسٹمرز کروڑ پتی بن سکیں گے۔
انعامات کی فائنینشل شیٹ درج ذیل پیرامیٹرز کے مطابق مینوفیکچر کی گئی ہے:
پہلا انعام: 1 خوش قسمت فاتح کو 10 کروڑ روپے (Rs. 10 crore) کی خطیر رقم پے کی جائے گی۔
دوسرا انعام: 20 فاتحین میں سے ہر ایک کو ڈھائی ڈھائی کروڑ روپے براہِ راست منتقل ہوں گے۔
تیسرا انعام: 100 خوش قسمت کسٹمرز میں سے ہر ایک کو 1 کروڑ روپیہ الاٹ کیا جائے گا۔
چوتھا انعام: 2,400 افراد میں سے ہر ایک کو 10 لاکھ روپے کیش لیس موڈ میں دیے جائیں گے۔
پہلی ڈیجیٹل قرعہ اندازی کا شیڈول اور ریجنل کوٹہ رولز
اسٹیٹ بینک کی ریگولیٹری گائیڈ لائنز کے مطابق اس اسکیم کی پہلی لائیو قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو منعقد ہوگی جس میں یکم اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک موصول ہونے والے تمام ٹرانزیکشن لاگز کا آڈٹ کیا جائے گا۔ اس اسکیم میں حصہ لینے کی کوئی مینوئل فیس، چالان یا کم از کم بیلنس برقرار رکھنے کی کوئی شرط نہیں ہے۔
عالمی کوریڈورز کے لحاظ سے انعامات کا کوٹہ بریک ڈاؤن یہ ہے:
خلیجی ممالک (GCC): 50 فیصد انعامات کا حصہ خلیجی ممالک سے رقم منگوانے والوں کے لیے لاک ہے۔
برطانیہ اور یورپ (UK & Europe): دونوں خطوں کے لیے 15، 15 فیصد کا اسمارٹ کوٹہ مینوفیکچرڈ ہے۔
شمالی امریکہ اور دیگر: 10 فیصد شمالی امریکہ اور 10 فیصد دنیا کے دیگر ممالک کے لیے الاٹ ہے۔
نتائج کا اعلان پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) اور تمام بڑے کمرشل بینکوں کے آفیشل پورٹلز پر لائیو کیا جائے گا۔ یہ اسمارٹ ریگولیٹری رخ بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر فروغ دے گا۔






