یوم عاشورہ، موبائل سروس معطل کر دی گئی

 پنجاب بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی وجہ سے 9 محرم الحرام پرامن گزر گیا ہے۔

 اس دن صوبے بھر میں 1,661 ماتمی جلوس اور 3,943 مجالس کا انعقاد کیا گیا۔ 

 سرکاری حکام کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں کم از کم 378 مجالس اور 75 جلوس جن میں چار بڑے جلوس، 16 لائسنس یافتہ اور 59 دیگر شامل تھے۔ 

 لاہور میں مرکزی جلوس صبح پانڈو سٹریٹ اسلام پورہ سے برآمد ہوا۔ یہ اپنے روایتی راستے عالمگیر روڈ، سراج بلڈنگ، مین بازار اسلام پورہ، بابا گراؤنڈ، سیکرٹریٹ، سینٹرل پولیس آفس، پرانی انارکلی اور کھیمہ سادات سے ہوتا ہوا واپس پانڈو اسٹریٹ پر پہنچا۔ 

 عزاداروں نے پورے راستے میں نعرے لگائے 

 وقفے وقفے سے عزاداروں کی جانب سے زنجیر زنی بھی کی گئی جبکہ علمائے کرام نے اس موقع پر خطاب کیا۔ 

شہر میں گرم موسم کے درمیان جلوس کے تمام راستوں پر ٹھنڈے پانی، جوس اور پسینے کے دودھ کی سبیلیں لگائی گئیں۔ 

 اس موقع پر لوگوں میں کھانا بھی تقسیم کیا گیا۔ لاہور پولیس نے راستوں اور اجتماعات پر سخت حفاظت کی۔ 

جلسہ گاہ کی طرف جانے والی سڑکوں اور گلیوں کو خاردار تاروں، خیموں اور شپنگ کنٹینرز سے سیل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں | احساس راشن سبسڈی پروگرام: وزیر اعلی پنجاب کا مستحق افراد کو پندرہ سو ماہانہ دینے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیں | سندھ: پانچ اگست کو یوم استحصال کشمیر منانے کی تیاریاں

 شرکاء کو متعدد پوائنٹس پر چیکنگ، فریکنگ، پاسنگ میٹل ڈیٹیکٹر اور واک تھرو گیٹس کے بعد نامزد پوائنٹس سے داخلے کی اجازت دی گئی۔ 

 تقریباً 14 ایس پیز، 40 ڈی ایس پیز، 99 انسپکٹرز، 810 بالا ماتحت، 370 پولیس خواتین اور انسداد فسادات فورس کے اہلکار شامل ہیں۔ 

 اس موقع پر سیکیورٹی کے لیے 10 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ انہیں رضاکاروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ 

 جلوسوں کی نگرانی کے لیے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تقریباً 900 سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے تھے۔ 

 راستوں کی نگرانی کے لیے ڈرون کیمروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ 

حفاظتی اقدامات کے تحت ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی۔ 

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔