کیا مفتی تقی عثمانی نے سرکاری جگہ پر قبضہ کر کے مسجد کی تعمیر کو جائز قرار دیا ہے؟

طارق روڈ پر واقع مدینہ مسجد کو شہید کر کے پارک بحال کرنے کے عدالتی حکم کے بعد نیا تنازعہ سامنے آگیا ہے۔

یہ مسجد سرکاری اراضی پر آج سے تقریبا چالیس سال پہلے بنائی گئی تھی جو کہ دراصل پارک کی جگہ تھی۔ عدالت نے کیس کی سماعت میں مسجد کو شہید کر کے پارک بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں | لوگوں کو بتائیں کہ کوئی مہنگائی نہیں ہے، وزیر اعظم عمران خان

سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد مختلف مذہبی رہنما اور بالخصوص مسلک دیوبند کے بڑے نام مسجد کے انہدام کے خلاف سامنے آئے ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام نے بھی اس کی مذمت کی ہے جبکہ حال ہی میں مفتی تقی عثمانی نے بھی اس کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

مفتی تقی عثمانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسجد اگرچہ حکومتی جگہ پہ ہی بنی ہو اسے شہید کرنا جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو چالیس سال ہو چکے تب سے انتظامیہ کہاں تھی؟ اگر جگہ قبضہ کی ہے تو بننے ہی کیوں دیا؟

انہوں نے کہ کہ حکومت نے ایک مسجد بھی آن تک اپنے پیسوں سے نہیں بنائی۔ مفتی صاحب کے اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ قبضہ کی جگہ پر بنی مسجد کے جواز کا فتوی دے رہے ہیں۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

ہمارا نیوز لیٹر جوائن کریں
تازہ ترین آرٹیکلز، نوکریوں اور تفریحی خبریں ڈائریکٹ اپنے انباکس میں حاصل کریں
یہاں ایک لاکھ ستر ہزار سبسکرائبرز ہیں