نیوکلر پاور: چائنہ نے “مصنوعی سورج” بنا لیا

چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن (سی این این سی) نے کہا کہ ایچ-ایل-2ایم ٹوکامک ‘مصنوعی سورج’ گرم پلازما کو فیوز کرنے کے لیے طاقتور مقناطیسی فیلڈ کا استعمال کرتا ہے اور 150 ملین ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت تک پہنچ سکتا ہے۔

 اس جدت کو چین کی جوہری تحقیق کی صلاحیتوں میں بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ہائیڈروجن اور ڈیوٹیریم گیسوں کو بطور ایندھن استعمال کرے گا۔ یہ بڑا آلہ جنوب مغربی صوبہ سیچوان کے چینگڈو میں واقع ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں | لوگوں کو بتائیں کہ کوئی مہنگائی نہیں ہے، وزیر اعظم عمران خان

 اس ڈیوائس سے ‘کنٹرولڈ نیوکلیئر فیوژن کے ذریعے صاف توانائی’ فراہم کرنے کی امید ہے۔ 

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ڈیوائس اپنے پیشرو ایچ-ایل-2اے ٹوکامک سے زیادہ جدید ڈھانچہ اور کنٹرول موڈ کے ساتھ پیمانے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا اور پیرامیٹرز میں سب سے زیادہ ہے۔ 

سی این این سی کے تحت ساؤتھ ویسٹرن انسٹی ٹیوٹ آف فزکس میں اس کے چیف انجینئر یانگ چنگوی نے بتایا ہے کہ بین الاقوامی ٹوکامک آلات کی توانائی کی قید کا وقت ایک سیکنڈ سے بھی کم ہے۔ اس کے شاٹ ڈسچارج کا دورانیہ تقریباً 10 سیکنڈ ہے، جس میں توانائی کی قید کا وقت چند سو ملی سیکنڈ ہے۔

حرمین رضا

حرمین رضا اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔