مصنف کے بارے میں

صفحۂ اول

نواز شریف کی لندن میٹنگ کی تصاویر موجود ہیں، حکومت کا دعوی

وزیر اعظم عمران خان کے مشیر بابر اعوان نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لندن میں سرگرمیوں کے تمام ثبوت حکومت کے پاس موجود ہیں۔

 انہوں نے یہ بیان بدھ کے روز ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس ایسی تمام میٹنگوں کی تفصیلات اور فوٹیج موجود ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ لندن میں کس سے مل رہے ہیں اور میٹنگیں کر رہے ہیں۔ 

رواں ماہ کے آغاز میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی مواصلات ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ حکومت کو معلوم ہے کہ نواز شریف ان دنوں برطانیہ کے دارالحکومت میں واقع ایک سفارت خانے کا دورہ کر رہے ہیان اور کچھ لوگوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ تاہم ، مسلم لیگ (ن) نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے قائد کو پی ٹی آئی کے وزراء کی جانب سے مناسب منصوبہ بندی سے بھارت سے منسلک کیا جارہا ہے۔ 

وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان نے مزید دعوی کیا کہ شریف خاندان کے نئے اثاثوں کا پتہ لگایا گیا ہے جن میں سے ایک کمپنی نے 25 ارب روپے تک کے اثاثے لے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تفصیلات اگلے ہفتے یا دس دن میں مزید سامنے آجائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تازہ انکشافات پچھلے انکشافات سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے قومی دولت لوٹ لی ہے اور ان کی پوری سیاسی سرگرمی کا مقصد مریم نواز سے معاہدہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنے والد سے لندن میں دوبارہ مل سکیں۔

 انہوں نے کہا کہ نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ان کے بچے پاکستان نہیں جائیں گے لیکن دوسروں سے بھی ان کے کرپٹ طریقوں کی حفاظت کے لئے سڑکوں پر آنے کو کہتے ہیں۔ جب وہ پاکستان نہیں آرہا ہے تو وہ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا کیوں کہہ رہا؟ 

 انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپوزیشن کو اجتماعات کرنے کی اجازت دیں گے لیکن ریاستی اداروں کے خلاف کسی بھی پرتشدد سرگرمی یا تقریر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ماضی میں ملک میں تین منتخب حکومتوں کو گرانے میں نواز کے ہاتھ ہونے کا الزام بھی مزید لگایا۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔