مصنف کے بارے میں

صفحۂ اول

نواز شریف کو بھارت کی جانب سے پناہ دی جا سکتی ہے، اعتزاز احسن

بھارت کی جانب سے نواز شریف کو سیاسی پناہ دینے کا امکان ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ویزا توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ملک کے معروف اور سینئر وکیل اعتزاز احسن نے نجی ٹی وی چینل پر ایک پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا فی الحال پاکستانی پاسپورٹ ہے ، اس لیے ں کے لیے برطانیہ سے دوسرے ملک کا سفر آسان نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی ملک خصوصی اجازت دیتا ہے تو نواز شریف بغیر پاسپورٹ کے بھی اس ملک کا سفر کر سکتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف جب بھی اقتدار میں آئے ، انہوں نے غیر ملکی حکمرانوں کے ساتھ ذاتی تعلقات قائم کیے لہذا سعودی عرب یا کوئی اور ملک انہیں پناہ دے سکتا ہے۔

 اعتزاز احسن کے مطابق بھارت بھی نواز شریف کو سیاسی پناہ دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھائے گا اور آگے بڑھے گا لیکن یہ بات یقینی ہے کہ میاں صاحب بھارت کی طرف سے کوئی پیشکش قبول نہیں کریں گے۔ 

یہ بھی پڑھیں | بیوی کے مقابلے میں حسین کی حالت زیادہ ہونی چاہیے ، صداف کنول کے بیان پر مختلف تبصرے

اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ ان کی ویزا توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد بھی نواز شریف کے پاس  دو آپشن ہیں۔ نواز شریف برطانوی امیگریشن حکام کے پاس جائیں گے اور پھر عدالت میں اپیل کر سکتے ہیں۔ ان اپیلوں کا فیصلہ ہونے میں چند ماہ لگیں گے جبکہ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما برطانیہ میں رہ سکیں گے۔

 دوسری جانب دیگر قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ اگر  اپیلوں پر فیصلہ نواز شریف کے حق میں نہیں آتا تو برطانوی حکومت مسلم لیگ (ن) کے رہنما کو برطانیہ چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دے گی۔ برطانوی حکومت کے فیصلے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما کو مقررہ مدت میں برطانیہ سے باہر نہ جانے کی صورت میں قانون کے تحت حراست میں لیا جائے گا۔ 

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف ، جو علاج کے لیے برطانیہ میں مقیم ہیں ، کو شدید دھچکا اس وقت لگا جب برطانوی حکومت نے نواز شریف کو مزید برطانیہ میں رہنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق نواز شریف نے برطانوی حکومت سے اپنے ویزے میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف نے کہا تھا کہ چونکہ وہ بیمار ہیں لہذا ان کا علاج مکمل ہونے تک انہیں برطانیہ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ 

گزشتہ ، متعلقہ برطانوی حکومتی ایجنسی نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی ویزا توسیع کی درخواست مسترد کر دی اور ان پر زور دیا کہ وہ چند دنوں میں ملک چھوڑ دیں۔

 یہاں واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے پاسپورٹ کی میعاد 16 فروری 2021 کو ختم ہوچکی ہے ، لہٰذا انہیں کسی دوسرے ملک کے سفر کے لیے حکومت پاکستان کی اجازت درکار ہے۔ نواز شریف حکومت پاکستان کی اجازت کے بغیر برطانیہ سے کسی دوسرے ملک روانہ نہیں ہو سکتے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔