‘عدالت نے 16 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کو جرم قرار دے دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے منگل کو شادی کی قانونی عمر کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 16 سال کی عمر میں شادی اب سے غیر قانونی ہو گی۔

 یہ اعلان 16 سالہ لڑکی سویرا فلک شیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سامنے آیا ہے جس نے مئی 2021 میں مرضی کی شادی کر لی گئی تھی جبکہ خاندان کی جانب سے اغوا کا کیس ڈالا گیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ اٹھارہ سالہ لڑکی نہ تو خود شادی کر سکتی ہیں اور نہ ہی ان کے والدین ان کی شادی کر سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں | مہنگائی: کے الیکٹرک صارفین کے لئے 2 روپے 90 پیسے فی یونٹ اضافہ

 ان کا مزید کہنا تھا کہ شادی کے لیے جائز عمر 18 سال ہوگی اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ سویرا کو گولڑہ دارالامان منتقل کیا جائے۔

 عدالت نے دارالامان کے منتظم کو بھی حکم دیا کہ درخواست گزار (سویرا کی والدہ) کو منتظم کی نگرانی میں اپنی بیٹی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

 اعلان میں کہا گیا ہے کہ جسمانی تبدیلیاں پختگی کی علامت نہیں ہیں۔ یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ شادی کی کم از کم عمر – 18 سال  کو مسلم لاز آرڈیننس میں واضح کیا جائے۔

 سویرا کی والدہ ممتاز بی بی نے مئی 2021 میں اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

 تاہم سویرا نے ہائی کورٹ میں گواہی دی تھی کہ اس نے پسند سے شادی کی تھی۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔