مصنف کے بارے میں

صفحۂ اول

حکومت کا پب جی گیم پر پابندی کا اعلان

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے کی جانب سے پب جی گیم کو عارضی طور پر پاکستان میں بند کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی اے نے اپنے باقاعدہ جاری کئے نوٹیفیکیشن میں کہا ہے کہ عارضی طور پر پب جی گیم پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

پب جی پر پابندی لگانے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے پاکستان میں پچھلے کئی روز سے خودکشی کرنے کا ٹرینڈ چل نکلا تھا جبکہ پچھلے دنوں لاہور میں ایک نوجوان نے پب جی گیم پر متعلقہ ٹاسک پورا نا ہونے کی بنا پر خودکشی کر تھی اور خودکشی کی لائیو وڈیو بھی ایک لڑکی سے شئیر کی تھی۔

ایسے واقعات پر عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ پب جی گیم پر پابندی عائد کی جائے تاہم پی ٹی اے نے عارضی طور پر اس پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے جو فورا نافذ العمل ہے۔ 

پی ٹی اے نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ عوام کی جانب سے مسلسل شکایات ملنے کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گیم وقت کا ضیاع اور دماغی خرابیوں کا باعث بن رہی ہے۔ صحت اور دماغ دونوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔  انہون نے کہا کہ اس گیم کی وجہ سے اب تک کئی خودکشیاں بھی وہ چکی ہیں جو کہ پابندی کی بھی ایک وجہ ہے۔ عدالت کی جانب سے اس سلسلے میں 9 جولائی کو سماعت کی جائے گی میں پب جی گیم پر پابندی کے حوالے سے آئیندہ کا لائحہ عمل بتایا جائے گا۔

ادارے کی جانب سے عوام سے آراء لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس متعلق اپنے نوٹیفیکیشن میں ای میل بھی دی گئی ہے جہاں عام لوگ پب جی گیم پر پابندی کے حوالے سے اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔