Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

یومِ تکبیر کی تاریخ: 28 مئی کا نام کیسے رکھا گیا؟

بلال رشید by بلال رشید
مئی 28, 2026
in آج کی اہم خبریں – پاکستان اور دنیا کی سرخیاں اور بریکنگ نیوز, پاکستان قومی خبریں – ملکی سطح کی اہم اور تازہ ترین رپورٹس, پاکستان کی سیاسی خبریں – حکومت، اپوزیشن اور انتخابی اپ ڈیٹس, علاقائی اور صوبائی خبریں – پنجاب، سندھ، KPK اور بلوچستان
یومِ تکبیر کی تاریخ

28 مئی 1998 پاکستان کی ملی اور دفاعی تاریخ کا وہ سنہرا دن ہے جس نے ملک کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ یہ وہی دن ہے جب پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے سنگلاخ پہاڑوں میں 5 کامیاب زیرِ زمین ایٹمی دھماکے کیے۔ ان کامیاب تجربات کے بعد پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی جوہری طاقت بن کر ابھرا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس عظیم دن کو "یومِ تکبیر” کیوں کہا جاتا ہے اور یہ نام کس نے تجویز کیا تھا؟ آئیے اس کے پیچھے چھپی حب الوطنی سے لبریز تاریخی داستان پر نظر ڈالتے ہیں۔

لفظ "تکبیر” کا مفہوم اور اہمیت

عربی زبان میں لفظ "تکبیر” کے معنی "اللہ کی بڑائی بیان کرنا” یعنی "اللہ اکبر” کا نعرہ بلند کرنا ہے۔ مسلم ثقافت اور خاص طور پر پاکستانی معاشرے میں نعرہ تکبیر اِسی وقت بلند کیا جاتا ہے جب کوئی بہت بڑی کامیابی، فتح یا تاریخی معجزہ رونما ہو۔ 28 مئی کو ایٹمی تجربات کے وقت جب چاغی کے راس کوہ پہاڑ دھماکوں کی شدت سے زرد ملبوسات کی طرح سفید رنگ میں تبدیل ہوئے تو وہاں موجود سائنسدانوں، انجینئرز اور عسکری حکام کے لبوں سے بے اختیار "اللہ اکبر” کے فلک شگاف نعرے گونج اٹھے۔ اسی مناسبت سے اس دن کو "یومِ تکبیر” کا نام دیا گیا۔

یومِ تکبیر کی تاریخ اور نام رکھنے کا پس منظر

ایٹمی دھماکوں کی کامیابی کے بعد اس وقت کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف ایک ایسا منفرد اور تاریخی نام تلاش کرنا چاہتے تھے جو اس دن کی عظمت اور عوامی امنگوں کا عکاس ہو۔ اس مقصد کے لیے وزارتِ اطلاعات اور پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے ذریعے ایک ملک گیر مہم چلائی گئی جس میں عوام سے ناموں کی تجاویز مانگی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سڑکوں پر خود برف پھینک کر سیاحوں سے پیسے بٹورنے والے ملزم گرفتار

اس مہم کے جواب میں ملک بھر سے لاکھوں پاکستانیوں نے خطوط اور فیکس کے ذریعے ہزاروں نام بھیجے۔ ان ہزاروں ناموں میں سے "یومِ تکبیر” کا نام سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نام متعدد شہریوں نے آزادانہ طور پر تجویز کیا تھا جن میں سید غضنفر عباس نامی شہری بھی شامل تھے۔ وزیرِ اعظم نے اس نام کی حتمی منظوری دی اور نام تجویز کرنے والے خوش نصیب شہریوں کو باقاعدہ طور پر وزیرِ اعظم ہاؤس بلا کر تعریفی اسناد اور انعامات سے نوازا گیا۔

28 مئی 1998 کا اسٹریٹجک منظرنامہ

یومِ تکبیر کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے مئی 1998 کے نازک حالات کو جاننا ضروری ہے۔ بھارت نے 11 اور 13 مئی 1998 کو پوکران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا تھا اور پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے تھے۔ عالمی برادری کی جانب سے پاکستان پر شدید معاشی اور سیاسی دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ ان دھماکوں کا جواب نہ دے۔ امریکی صدر کی جانب سے اربوں ڈالرز کے امدادی پیکیج کی پیشکش بھی کی گئی لیکن ملکی قیادت اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے مایہ ناز سائنسدانوں کے عزم کے سامنے تمام بیرونی دباؤ ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔

اس دن کی سرکاری اور سفارتی اہمیت کو جاننے کے لیے آپ وزارتِ خارجہ پاکستان (MOFA) کے آفیشل بیان کا مطالعہ کر سکتے ہیں جہاں اس دن کو ملکی خودداری اور دفاعِ وطن کے عزمِ نو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قومی نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کی خصوصی رپورٹ کے مطابق یہ دن پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی ایک تاریخ ساز علامت بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جسم میں خون کی کمی کی وجوہات اور ان کا حل

یومِ تکبیر: قومی یکجہتی اور فخر کا دن

آج یومِ تکبیر کی تاریخ ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ جب کوئی قوم اپنی خودداری اور بقا کے لیے متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ یہ دن صرف ایٹمی دھماکوں کی یادگار نہیں بلکہ پاکستانی سائنسدانوں، عسکری قیادت اور عوام کی بے مثال قربانیوں اور عزمِ صمیم کا اعتراف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال 28 مئی کو پاکستان بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے اور پوری قوم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وطنِ عزیز کی خودمختاری پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

مزید تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu khabar فالو کریں۔

بلال رشید

بلال رشید

بلال رشید ایک شہری امور اور سیاسی تجزیہ کار ہیں جو مقامی طرزِ حکمرانی اور شہری ترقی کے معاملات پر تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں شہروں کی منصوبہ بندی، بلدیاتی سیاست اور عوامی مفاد سے متعلق موضوعات پر مبنی ہوتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

سی سی ای تحریری امتحان کا شیڈول

ایس پی ایس سی سی سی ای-2025: امتحانات کا مکمل شیڈول اور ٹائم لائن

جولائی 9, 2026
فیصل آباد میٹرو بس روٹ

فیصل آباد میٹرو بس روٹ فائنل: اسٹیشنز اور راستوں کی مکمل لسٹ

جولائی 9, 2026
مڈ ٹرم امتحانات کے نتائج

ورچوئل یونیورسٹی نے سیمسٹر بہار 2026 کے مڈ ٹرم امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا

جولائی 9, 2026
پنجاب میں مقامی تعطیل

کیا 11 جولائی کو پنجاب میں چھٹی ہے؟ جانیں کون سا ضلع بند رہے گا

جولائی 9, 2026
آن لائن وہیکل ٹوکن ٹیکس

گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس آن لائن چیک اور جمع کرنے کا طریقہ

جولائی 9, 2026
اپنی چھت اپنا گھر اسکیم

’اپنی چھت اپنا گھر‘ پروگرام میں توسیع: گھر کی مرمت کے لیے سود سے پاک قرض کیسے حاصل کریں؟ 

جولائی 9, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

سی سی ای تحریری امتحان کا شیڈول

ایس پی ایس سی سی سی ای-2025: امتحانات کا مکمل شیڈول اور ٹائم لائن

جولائی 9, 2026
فیصل آباد میٹرو بس روٹ

فیصل آباد میٹرو بس روٹ فائنل: اسٹیشنز اور راستوں کی مکمل لسٹ

جولائی 9, 2026
مڈ ٹرم امتحانات کے نتائج

ورچوئل یونیورسٹی نے سیمسٹر بہار 2026 کے مڈ ٹرم امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا

جولائی 9, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.