پاکستان کے سیاسی ایوانوں میں ان دنوں ایک نئی اور غیر معمولی بحث چھڑی ہوئی ہے جس نے ملک بھر کے نوجوانوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے تحت ووٹنگ کی عمر کی حد میں تبدیلی کا اشارہ دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حق رائے دہی کی کم از کم عمر 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس سے براہ راست 3 کروڑ سے زائد نوجوان ووٹرز متاثر ہو سکتے ہیں۔
آئیے اس تفصیلی جائزے میں دیکھتے ہیں کہ اس تجویز کے پیچھے کیا محرکات ہیں اور یہ پاکستان کے جمہوری مستقبل پر کیسے اثر انداز ہو سکتی ہے۔
حکومت کا موقف: بلوغت کا معیار یا سیاسی حکمت عملی؟
اس تجویز کی تصدیق وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں یہ بحث جاری ہے کہ الیکشن لڑنے کی عمر اور ووٹنگ کی عمر کو ایک سطح پر لایا جائے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے دی جانے والی دلیل یہ ہے کہ:
پاکستان میں الیکشن لڑنے کی کم از کم عمر 25 سال ہے۔
اگر ایک شخص 25 سال سے پہلے الیکشن نہیں لڑ سکتا تو اسے ووٹ دینے کا حق بھی نہیں ہونا چاہیے یا پھر الیکشن لڑنے کی عمر کم کر کے 18 سال کر دی جائے۔
25 سال کی عمر کو "ذہنی پختگی” (Maturity) کی عمر قرار دیا جا رہا ہے جہاں انسان اپنے فیصلے بہتر انداز میں کر سکتا ہے۔
اپوزیشن اور سول سوسائٹی کا شدید ردعمل
اس تجویز کے سامنے آتے ہی اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف (PTI) اور سول سوسائٹی نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جمہوریت کی روح کے منافی ہے اور اس کا واحد مقصد نوجوان ووٹرز جو کہ روایتی طور پر اسٹیٹس کو (Status Quo) کے خلاف ووٹ دیتے ہیں کو انتخابی عمل سے باہر کرنا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ X (سابقہ ٹوئٹر) پر ردعمل دیتے ہوئے ماہرین نے سوال اٹھایا کہ:
اگر 18 سال کا نوجوان پاک فوج میں شامل ہو کر ملک کے لیے جان دے سکتا ہے
شادی کر سکتا ہے اور ٹیکس ادا کر سکتا ہے
تو اسے اپنی حکومت چننے کا حق کیوں نہیں دیا جا سکتا؟
Inside on the proposed 28th Amendment? Why are PPP-PMLN on odd with the terms on this biggest constitutional package. Is 28th Amendment becoming a bombshell in Pakistan’s history? What really hidden proposed amendments in around 117 Articles might create political chaos &… pic.twitter.com/ZBTJcvpOey
— Zahid Gishkori (@ZahidGishkori) May 15, 2026
آئین پاکستان اور عالمی قوانین کیا کہتے ہیں؟
آئین پاکستان کے آرٹیکل 106(2) کے تحت اس وقت ووٹ ڈالنے کی اہلیت کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان میں 2002ء میں ووٹ ڈالنے کی عمر 21 سے کم کر کے 18 سال کی گئی تھی تاکہ اسے عالمی معیار کے مطابق لایا جا سکے۔
دنیا بھر کے بیشتر جمہوری ممالک میں ووٹنگ کی عمر 18 سال ہی ہے اور اسے کم کر کے 16 سال کرنے پر بحث ہو رہی ہے جبکہ پاکستان میں اسے بڑھانے کی تجویز الٹی گنگا بہانے کے مترادف سمجھی جا رہی ہے۔
نوجوانوں پر اثرات: 3 کروڑ ووٹرز کا مستقبل
اگر یہ ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ یعنی 18 سے 25 سال کے درمیان کے کروڑوں نوجوان اپنے جمہوری حق سے محروم ہو جائیں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق:
پاکستان کی کل آبادی کا 64 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔
نئی مردم شماری اور ووٹر لسٹوں کے مطابق 18 سے 25 سال کے ووٹرز کی تعداد تقریباً 3 کروڑ کے لگ بھگ ہے جو کسی بھی الیکشن کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کیا یہ ترمیم منظور ہو سکے گی؟
فی الحال یہ صرف ایک تجویز ہے اور اسے قانون بننے کے لیے پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت درکار ہوگی۔ تاہم اس خبر نے نوجوان نسل میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے کیونکہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔
عوام کو چاہیے کہ وہ مستند خبروں کے لیے قومی اسمبلی پاکستان اور حکومت پاکستان کے آفیشل پورٹلز سے جڑے رہیں اور افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کریں۔ووٹنگ کی عمر میں اضافے کی یہ تجویز پاکستان کے جمہوری ارتقاء کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ کیا نوجوانوں کو فیصلہ سازی سے دور رکھنا ملک کے مفاد میں ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کو دینا ہوگا۔






