موجودہ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا جہاں رابطوں کا بہترین ذریعہ ہے وہاں یہ خواتین کے لیے شدید خطرات کا باعث بھی بن رہا ہے۔ جون 2025 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر G-13 میں 17 سالہ معروف ٹک ٹاک انفلوئنسر ثناء یوسف کو ان کے اپنے گھر میں گھس کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا اس ہائی پروفائل کیس کے مرکزی ملزم عمر حیات کو عدالت نے اب عبرت ناک سزا سنائی ہےعمر حیات ٹرائل کا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس، سائبر کرائم اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
کیس کا پس منظر: آن لائن دوستی سے یکطرفہ جنون تک
تفتیشی رپورٹوں اور عدالتی بیانات کے مطابق فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ عمر حیات اور چترال سے تعلق رکھنے والی ثناء یوسف کے درمیان ابتدائی رابطہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہوا تھا ثناء یوسف جن کے ٹک ٹاک پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز تھے اپنے طرزِ زندگی اور فیشن مواد کی وجہ سے جانی جاتی تھیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ عمر حیات اس آن لائن بات چیت کو لے کر یکطرفہ جنون (Obsession) کا شکار ہو گیا جب ثناء نے اس کی حد سے بڑھی ہوئی مداخلت کو مسترد کیا اور اس سے ملنے یا تعلق قائم کرنے سے انکار کر دیا تو عمر حیات نے ان کی آن لائن اور آف لائن اسٹاکنگ شروع کر دی۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق یہ قتل بار بار مسترد کیے جانے کا ردِعمل تھا
2 جون 2025 کا لرزہ خیز واقعہ
ملزم نے ثناء کی سالگرہ پر ملاقات کی کوشش ناکام ہونے کے بعد ایک گہری سازش تیار کی 2 جون 2025 کو ملزم گاڑی کرائے پر لے کر اور 30 بور کا پسٹل اپنے ساتھ لے کر اسلام آباد میں ثناء یوسف کے گھر پہنچا گھر کے اوپری حصے میں داخل ہونے کے بعد دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد عمر حیات نے ثناء کے سینے پر دو گولیاں چلا دیں یہ پورا واقعہ مقتولہ کی ماں اور خالہ کے سامنے پیش آیا۔ قتل کے بعد ملزم مقتولہ کا آئی فون (iPhone) بھی ساتھ لے گیا تاکہ آن لائن ہراسانی کے ثبوت مٹائے جا سکیں
اسلام آباد پولیس نے جدید ترین سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں اور موبائل ڈیٹا اینالسس کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو محض 20 گھنٹوں کے اندر فیصل آباد سے گرفتار کر لیا تھا
عمر حیات ٹرائل کا فیصلہ اور عدالتی کارروائی
یہ کیس اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا کی سربراہی میں چلا ٹرائل کے دوران ملزم نے پہلے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت جرم کا اعتراف کیا لیکن بعد میں وہ اپنے بیان سے مکر گیا اور دعویٰ کیا کہ پولیس نے اسے جھوٹا پھنسایا ہے تاہم استغاثہ نے ٹھوس ڈیجیٹل شواہد، ڈی این اے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور چشم دید گواہوں کے بیانات عدالت میں پیش کیے
عدالت نے 19 مئی 2026 کو محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے مجرم عمر حیات کو درج ذیل سزائیں دیں:
سزائے موت: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت جان بوجھ کر قتل کرنے پر سزائے موت کا حکم
قیدِ با مشقت: مختلف دیگر دفعات (جیسے موبائل فون چھیننا اور چوری) کے تحت مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا
جرمانہ: مقتولہ کے خاندان کو 25 لاکھ روپے ہرجانہ اور جرمانہ ادا کرنے کا حکم۔
پاکستان میں سائبر کرائمز اور خواتین کو ہراساں کیے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومتِ پاکستان کا ادارہ FIA Cyber Crime مسلسل کام کر رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ معاشرے میں ایسے مجرموں کے لیے ایک سخت وارننگ ہے
ڈیجیٹل سیفٹی اور قوانین کی اہمیت
ثناء یوسف کے والد سید یوسف حسن نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سزا دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بنے گی ڈیجیٹل رائٹس کے کارکنان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز، بالخصوص خواتین کو سخت آن لائن بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر آپ یا آپ کا کوئی قریبی شخص آن لائن ہراسانی یا اسٹاکنگ کا شکار ہے تو فوری طور پر حکومت کے آفیشل پورٹل National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) پر شکایت درج کروائیں۔یہ عمر حیات ٹرائل کا فیصلہ واضح کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کی ہراسانی کو ہلکا نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ کسی بھی وقت حقیقی زندگی میں ایک بڑے سانحے کی شکل اختیار کر سکتی ہے
مزید اہم خبروں اور تازہ اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






