پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک بھر میں سولر انرجی کے صارفین کو ایک بڑا ریلیف دیتے ہوئے گرڈ سے منسلک کرنے کی درخواستوں پر غیر ضروری تاخیر کا سخت نوٹس لیا ہے۔ وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے تمام بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (DISCOs) کو واضح احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ سولر نیٹ میٹرنگ ایپلی کیشنز کے تمام زیر التوا بیک لاگ (Backlog) کو فوری طور پر کلیئر کریں۔ پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (PITC) کی رپورٹ کے بعد حکومت نے ڈسکوز کو 1,355 تعطل کا شکار ایپلی کیشنز کو صرف 10 دنوں کے اندر حل کرنے اور نیٹ میٹرڈ کنکشنز کو چالو کرنے کا حتمی ہدف دیا ہے۔
سولر ایپلی کیشنز میں تاخیر کی بنیادی وجوہات اور حکومتی ایکشن
سرکاری دستاویزات اور وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق، یہ تمام 1,355 کیسز وہ ہیں جو رواں سال 8 فروری سے پہلے رجسٹرڈ ہوئے تھے لیکن ڈسکوز کی سست روی کے باعث گزشتہ چھ ماہ سے لٹکے ہوئے تھے۔
ان درخواستوں کے التوا کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
قوانین میں تبدیلی کا بہانہ: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRE) کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے پرانے مینوئل کو تبدیل کر کے نئے پروزومر ریگولیشنز کے نفاذ کے دوران کمپنیوں نے کام روک دیا تھا۔
ٹرانسفارمرز کی غلط ٹیگنگ: پی آئی ٹی سی کی رپورٹ کے مطابق بہت سے فیڈرز پر ٹرانسفارمرز کو صارفین کے ساتھ درست طریقے سے ٹیگ نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ٹرانسفارمرز پر غیر حقیقی بوجھ (Sanctioned Load) ظاہر ہو رہا تھا اور درخواستیں بلاوجہ مسترد ہو رہی تھیں۔
انتظامی غفلت: مختلف ڈسکوز کے حکام نئے نیٹ بلنگ فریم ورک کی آڑ میں صارفین کی منظوریوں کو مسلسل لٹکا رہے تھے۔
حکومت نے اس غفلت پر سخت ایکشن لیتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ مقررہ 10 دنوں میں کنکشنز چالو نہ کرنے والے افسران (بشمول ایکسیئن اور ایس ڈی اوز) کے سالانہ بونس روک دیے جائیں گے۔
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ: نئے پالیسی قوانین کا اثر
حکومت نے صارفین کو یقین دلایا ہے کہ 8 فروری سے قبل موصول ہونے والی تمام سولر نیٹ میٹرنگ ایپلی کیشنز کو پرانے قانون کے تحت ہی ڈیل کیا جائے گا اور ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔ تاہم اس تاریخ کے بعد آنے والے نئے کنکشنز پر نیپرا کے نئے ضوابط لاگو ہو چکے ہیں جنہیں سمجھنا صارفین کے لیے ضروری ہے:
یونٹ کے بدلے پیسے کا نظام: پرانے نظام میں یونٹ کے بدلے یونٹ ایڈجسٹ ہوتا تھا جبکہ اب نیٹ بلنگ کے تحت حساب کتاب روپوں میں ہوگا۔
ایکسپورٹ ریٹ میں کمی: پہلے گرڈ کو دی جانے والی بجلی تقریباً 25 سے 27 روپے فی یونٹ خریدی جاتی تھی جو اب نئے صارفین کے لیے کم کر کے 10 سے 12 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔
معاہدے کی مدت: نئے سولر پروڈکشن لائسنسوں کے معاہدے کی مدت کو 7 سال سے گھٹا کر 5 سال کر دیا گیا ہے۔
| پالیسی پیرامیٹر [7, 8, 9] | پرانا نیٹ میٹرنگ نظام | نیا نیٹ بلنگ ریگولیشن (2026) |
| ایکسپورٹ بجلی کی قیمت | 25 تا 27 روپے فی یونٹ | 10 تا 12 روپے فی یونٹ |
| معاہدے کی کل مدت | 7 سال | 5 سال |
| حساب کتاب کا طریقہ | یونٹ ٹو یونٹ سویپ | مانیٹری کریڈٹ ریٹرن |
صارفین کے لیے اگلے اقدامات اور شکایات کا طریقہ
وفاقی حکومت کی جانب سے اس گرین انرجی ہدف کو تیز کرنے کا مقصد درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے۔ وہ تمام شہری جنہوں نے اپنے سسٹم نصب کر لیے ہیں اور گرڈ چالو ہونے کے منتظر ہیں وہ اپنے متعلقہ ڈسکو (جیسے لیسکو، میپکو، فیسکو، یا کے الیکٹرک) کے دفاتر سے فوری رابطہ کریں۔
اگر آپ کا کنکشن اب بھی تاخیر کا شکار ہے تو حکومت نے شکایات کے فوری ازالے کے لیے وفاقی ہیلپ لائن 118 کو فعال کر دیا ہے جہاں پی آئی ٹی سی کا پورٹل براہ راست مانیٹرنگ کر رہا ہے۔ مزید رہنمائی کے لیے پاور ڈویلپمنٹ بورڈ (PPIB) کے نیٹ میٹرنگ گائیڈز سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔,
پاور ڈویژن کا 1,355 نیٹ میٹرنگ کیسز کو 10 دن میں کلیئر کرنے کا حکم سولر صارفین کی بڑی فتح ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف گرین انرجی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ گرمیوں کے سیزن میں عام شہریوں کو بجلی کے بھاری بلوں سے فوری ریلیف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید تازہ خبروں اور اہم الرٹس کے لیے Urdu Khabar کا رخ کریں۔






