سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے اقراء یونیورسٹی کے سینٹر فار ایکسیلنس ان اسلامک فن ٹیک (IU-CEIF) کے اشتراک سے ملک بھر کی خواتین کے لیے دو ماہ طویل سرمایہ کاری مقابلے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ "بااختیار خواتین – اخلاقی سرمایہ کاری” کے عنوان سے شروع کیے جانے والے اس منفرد اقدام کا بنیادی مقصد خواتین کو شرعی اصولوں کے عین مطابق سرمایہ کاری کے طریقوں سے روشناس کرانا ہے۔
یونیورسٹی کی طالبات اور اسٹاف کے لیے سنہری موقع
کراچی میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ای سی پی کے کمشنر امتیاز حیدر نے واضح کیا کہ مالیاتی شعبے میں خواتین کی شراکت داری کو بڑھانے کے لیے مالیاتی آگاہی اور درست فیصلے انتہائی ضروری ہیں۔ یہ مقابلہ پاکستان بھر کی تمام یونیورسٹیوں کی طالبات، فیکلٹی ممبران اور خواتین عملے کے لیے کھلا ہے جہاں انہیں عملی طور پر سرمایہ کاری کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مستقبل میں بااعتماد اور ذمہ دارانہ مالی فیصلے کر سکیں۔
خواتین کے لیے ڈیجیٹل پروڈکٹس اور فنانسنگ کا حجم
کمشنر نے خواتین کی فنانس تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ایس ای سی پی کے اقدامات پر روشنی ڈالی جس میں خواتین کی ملکیت والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (MSMEs) کے لیے پاکستان کا پہلا خصوصی ڈیجیٹل فنانسنگ پروڈکٹ خودمختار خاتون” شامل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نان بینکنگ فنانس کمپنی (NBFC) کے شعبے میں خواتین کا حصہ انسٹھ فیصد ہے جبکہ مائیکرو فنانس کے شعبے میں بیاسی فیصد فعال قرض دہندگان خواتین ہیں جنہیں مالی سال 2025-26 کے دوران 236 ارب روپے سے زائد کے قرضے جاری کیے گئے۔






