صوبے کی زرعی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے باقاعدہ طور پر پنجاب گندم خریداری مہم 2026 کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کے تحت نہ صرف گندم کی ایک معیاری امدادی قیمت مقرر کی گئی ہے بلکہ کسانوں کو مالی بوجھ سے بچانے کے لیے 72 گھنٹوں کے اندر ادائیگی کا سخت قانون بھی نافذ کیا گیا ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدلتے ہوئے موسمی حالات کی وجہ سے زرعی شعبے کو چیلنجز کا سامنا ہے اور حکومت کا مقصد مقامی مارکیٹ میں استحکام لانا ہے۔
قیمت اور ادائیگی کی ضمانت: 72 گھنٹوں کا قانون
پنجاب حکومت نے گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی ہے۔ ماضی میں ادائیگیوں میں ہونے والی تاخیر کو ختم کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو پابند کیا ہے کہ گندم کی خریداری کے محض 72 گھنٹوں کے اندر کسانوں کو ان کے واجبات پہنچا دیے جائیں۔
اس پورے عمل میں شفافیت برقرار رکھنے اور زمینی سطح پر درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے صوبائی اور ڈویژنل سطح پر اسٹریٹجک مینجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ کمیٹیاں خریداری مراکز کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ (نگرانی) کی ذمہ دار ہیں۔
کسان کارڈ کی اہمیت
اس خریداری مہم کا ایک مرکزی ستون کسان کارڈ اسکیم ہے۔ اس وقت تقریباً 9 لاکھ کسان اس پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جس کے ذریعے اب تک 100 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
کسان کارڈ پروگرام کے اہم اعداد و شمار:
رجسٹرڈ کسان: 900,000
فراہم کردہ قرضے: 100 ارب روپے
قرضوں کی واپسی کی شرح: 99 فیصد
ترجیحی حیثیت: گندم کی خریداری کے عمل میں رجسٹرڈ کارڈ ہولڈرز کو ترجیح دی جائے گی۔
جدید مشینی زراعت اور نوجوانوں کی بااختیاری
حکومت کا وژن محض خریداری تک محدود نہیں بلکہ زراعت میں طویل مدتی ساختی تبدیلی لانا ہے۔
گرین ٹریکٹر اسکیم: 30,000 ٹریکٹرز کے ہدف میں سے 20,000 ٹریکٹرز پہلے ہی کسانوں کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس مشینی عمل سے مقامی صنعت، خاص طور پر ڈسکہ جیسے شہروں میں ہارویسٹر کی پیداوار کو فروغ ملا ہے۔
ورک ود پنجاب گورنمنٹ پروگرام: نئے ٹیلنٹ کو سرکاری شعبے میں شامل کرنے کے لیے ایگریکلچر گریجویٹس اور دیگر نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام شروع کیا گیا ہے تاکہ وہ سرکاری زرعی آپریشنز میں عملی تجربہ حاصل کر سکیں۔
تازہ اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar دیکھیں






