اگر آپ روزگار، اعلیٰ تعلیم یا بہتر مستقبل کے لیے یورپ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کے لیے یورپی یونین (EU) کے بدلتے ہوئے قوانین سے باخبر رہنا انتہائی ضروری ہے۔ یورپی یونین نے اپنے پناہ گزینوں اور مهاجرین کے نظام کو سخت بنانے کے لیے ایک طویل المدتی اور تاریخی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے جسے "نیو پیکٹ آن مائیگریشن اینڈ اسائلم” کہا جاتا ہے۔ یہ نئی یورپی یونین امیگریشن پالیسی بلاک کی تاریخ میں بارڈرز کی نگرانی اور پناہ کے قوانین میں سب سے بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے جس کے اثرات پاکستان سے یورپ جانے والے قانونی اور غیر قانونی مسافروں پر گہرے ہوں گے۔
سیاسی اور معاشی بحران کے باعث ہر سال ہزاروں پاکستانی قانونی طریقوں یا پھر یونان اور اٹلی جیسے ممالک کے خطرناک سمندری راستوں (ڈنکی) کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب نئے قوانین کے تحت ان کے لیے حالات مکمل طور پر تبدیل ہو رہے ہیں۔
بارڈرز پر سخت اسکریننگ اور بائیومیٹرک ڈیٹا کا لازمی نفاذ
نئے معاہدے کے تحت یورپ کی بیرونی سرحدوں (مثلاً یونان، اٹلی، اسپین) پر پہنچنے والے تمام افراد کی سخت اسکریننگ کی جائے گی۔
شناخت اور ہیلتھ چیک: سرحد پر پہنچتے ہی مسافروں کی بائیومیٹرک شناخت، انگلیوں کے نشانات (Fingerprints) اور چہرے کا اسکین لیا جائے گا۔
یوروڈیک (Eurodac) ڈیٹا بیس: یہ معلومات یورپی یونین کے مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس میں محفوظ کی جائیں گی تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ آیا کسی شخص نے پہلے کسی دوسرے یورپی ملک میں تو اپلائی نہیں کیا۔ اس سے غیر قانونی راستے سے آنے والے پاکستانیوں کی فوری شناخت ممکن ہو سکے گی۔
اسائلم (پناہ) کے عمل میں تیزی اور فاسٹ ٹریک ریجیکشن
ماضی میں یورپ پہنچ کر پناہ (Asylum) کی درخواست دینے کے بعد فیصلہ آنے میں سالوں لگ جاتے تھے جس کے دوران لوگ وہیں مقیم رہتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔
بارڈر بارڈر اسائلم پروسیجر: جن ممالک کے شہریوں کے اسائلم قبول ہونے کی شرح 20 فیصد سے کم ہے (جس میں پاکستان بھی شامل ہے) ان کی درخواستوں کا فیصلہ سرحد پر بنے عارضی حراستی مراکز (Detention Centers) میں صرف 12 ہفتوں کے اندر کیا جائے گا۔
فوری ملک بدری (Deportation): اگر درخواست مسترد ہو جاتی ہے تو کونسل کے نئے قوانین کے تحت امیدوار کو اپیل کا موقع دیے بغیر فوری طور پر پاکستان یا کسی محفوظ تیسرے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔
لازمی یکجہتی (Mandatory Solidarity) کا نیا قانون
اب تک اٹلی اور یونان جیسے ساحلی ممالک پر تارکینِ وطن کا سب سے زیادہ بوجھ تھا لیکن اب یورپی یونین نے تمام 27 رکن ممالک کے لیے بوجھ بانٹنا لازمی قرار دے دیا ہے۔
اگر کوئی ملک دوسرے ممالک سے پناہ گزینوں کو اپنے ہاں منتقل (Relocate) نہیں کرنا چاہتا تو اسے فی پناہ گزین کے حساب سے خطیر رقم (تقریباً 20,000 یورو) یورپی یونین کے فنڈ میں جمع کروانی ہوگی۔
اس قانون کی وجہ سے مشرقی یورپی ممالک (جیسے پولینڈ اور ہنگری) غیر قانونی تارکینِ وطن کو قبول کرنے کے بجائے فنڈز دیں گے جس سے پاکستانیوں کے لیے پورے یورپ میں پھیلنے کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔
قانونی راستوں (ویزہ اپلائی) پر اس کے اثرات
جہاں ایک طرف غیر قانونی ہجرت کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے وہیں یہ نئی یورپی یونین امیگریشن پالیسی ہنر مند افراد (Skilled Professionals) اور طلبہ کے لیے کچھ اچھے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔
(EU Talent Pool): یورپی یونین جرمنی اور اٹلی جیسے ممالک میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے قانونی ویزوں اور ورک پرمٹس کے عمل کو منظم کر رہی ہے۔
اگر آپ کے پاس آئی ٹی، انجینئرنگ یا ہیلتھ کیئر کی ڈگری ہے تو آپ قانونی ورک ویزا حاصل کر کے عزت کے ساتھ یورپ جا سکتے ہیں کیونکہ غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے ساتھ ساتھ یورپ قانونی مائیگریشن کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
پرانی پالیسی بمقابلہ نئی یورپی یونین امیگریشن پالیسی (پاکستانیوں کے لیے فرق)
| خصوصیت / قانون | پرانا یورپی نظام | نیا یورپی یونین معاہدہ (2026+) | پاکستانی تارکینِ وطن پر اثر |
| بارڈر پر اسکریننگ | سست اور غیر منظم | 7 دن کے اندر لازمی ڈیجیٹل اسکریننگ | غیر قانونی داخلہ ناممکن کے برابر |
| اسائلم کیس کا وقت | 1 سے 3 سال کا طویل عرصہ | صرف 12 ہفتے (فاسٹ ٹریک) | طویل قیام کا موقع ختم |
| ملک بدری (Deportation) | پیچیدہ اور سست عمل | تیز رفتار اور لازمی واپسی | مسترد ہونے پر فوری واپسی |
| قانونی ورک ویزے | ہر ملک کے الگ اور مشکل قوانین | سنٹرلائزڈ ٹیلنٹ ہنٹ اور آسانیاں | ہنر مند افراد کے لیے بہترین موقع |






