پنجاب میں بسنت اور پتنگ بازی کا شوق صدیوں پرانی ثقافت کا حصہ رہا ہے لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں کیمیکل ڈور، شیشہ لگی دھاتی تار اور ہوائی فائرنگ کی وجہ سے یہ تفریح ایک خونی کھیل میں تبدیل ہو گئی تھی، جس کے بعد پنجاب میں پتنگ بازی کے قوانین مزید سخت کر دیے گئے۔ بے شمار قیمتی جانوں کے ضیاع اور خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹنے کے واقعات کے بعد حکومت نے اس پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ سال 2026 میں حکومتِ پنجاب نے اس روایتی تہوار کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے انتہائی سخت ضوابط متعارف کروائے ہیں۔ اب پنجاب میں پتنگ بازی کے قوانین کے تحت خطرناک ڈور بنانے اور اڑانے والوں کے خلاف ناقابلِ ضمانت فوجداری مقدمات اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ اس مضمون میں ہم ان قوانین اور سزاؤں کی تفصیلات کا جائزہ لیں گے۔
کیمیکل ڈور پر پابندی اور سخت سزائیں
پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ کے تحت دھاتی تار، نائلون کی ڈور (تاندی) اور شیشے کے پاؤڈر یا دیگر خطرناک کیمیکلز سے تیار کردہ مانجھے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اب خونی کھیل کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔
اس قانون کے تحت سزاؤں کا شیڈول درج ذیل ہے:
پتنگ بازوں کے لیے سزا: جو کوئی بھی ممنوعہ ڈور یا غیر قانونی طریقے سے پتنگ اڑاتا ہوا پکڑا گیا اسے 3 سے 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
مینوفیکچررز اور ڈیلرز کے لیے سزا: خطرناک کیمیکل ڈور بنانے سپلائی کرنے یا فروخت کرنے والوں کو 5 سے 7 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
ناقابلِ ضمانت جرم: حکومت نے ان تمام جرائم کو ‘نان بیلیبل’ (ناقابلِ ضمانت) اور ‘کاکنیزیبل’ قرار دیا ہے یعنی پولیس بغیر وارنٹ ملزم کو گرفتار کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
New regulations for kite flying in Punjab announced for 2027.
— PMLN (@pmln_org) May 2, 2026
🔹The minimum height of boundary walls on rooftops has been set at at least 3.5 feet.
🔹Gathering more people than the allowed capacity on rooftops will also not be permitted. pic.twitter.com/CoI6udFex6
بچوں کے پتنگ اڑانے پر والدین ذمہ دار
نئے قوانین کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کے پتنگ اڑانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اگر کوئی بچہ غیر قانونی طور پر پتنگ اڑاتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو اس کے خلاف جووینائل جسٹس سسٹم کے تحت کارروائی ہوگی لیکن اصل مالی بوجھ والدین پر پڑے گا:
پہلی بار قانون کی خلاف ورزی پر 50,000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اگر بچہ دوبارہ وہی جرم کرتا ہے تو جرمانہ بڑھا کر 1,00,000 روپے کر دیا جائے گا۔
اگر والدین یہ جرمانہ ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو یہ رقم بقایا جاتِ اراضی (Arrears of Land Revenue) کے طور پر ان سے سختی سے وصول کی جائے گی۔
پتنگ اور ڈور کے لیے کیو آر کوڈ (QR Code) لازمی
ماضی میں خونی ڈور بیچنے والوں کا سراغ لگانا ناممکن ہوتا تھا لیکن اب حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے۔ 2026 کے ضوابط کے مطابق:
پتنگ اور ڈور بنانے والے ہر مینوفیکچرر اور دکاندار کا ڈپٹی کمشنر آفس میں رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔
صرف خالص سوتی دھاگے (Cotton String) کی بنی ڈور کی اجازت ہوگی جس میں تاروں کی تعداد 9 سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
ہر رجسٹرڈ دکاندار اور ہر پتنگ کے اوپر ایک منفرد QR Code چسپاں ہوگا۔ اگر کہیں بھی غیر قانونی ڈور یا حادثے کا باعث بننے والی پتنگ ملے گی تو پولیس اس بار کوڈ کو اسکین کر کے فوری طور پر اصل دکاندار یا مینوفیکچرر تک پہنچ جائے گی۔پنجاب میں پتنگ بازی کے قوانین کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ روایتی اور تفریحی انداز میں صرف سوتی ڈور کے ساتھ مخصوص ایام میں پتنگ اڑانے کی اجازت ہے، لیکن اگر کسی نے قانون کی لکیر عبور کی تو وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔
تازہ ترین اپڈیٹس اور خبروں کے لیے Urdu Khabar کا دورہ کریں۔






