پاکستان کے وفاقی ریگولیٹری انفراسٹرکچر، ہیلتھ کیئر لاجسٹکس، پبلک سروس ڈیلیوری اور وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ کے تزویراتی کوریڈورز سے عوامی صحت کے تحفظ کا سب سے بڑا انتظامی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے عطائیت کے خلاف جاری صوبہ گیر مہم کے دوران ریکارڈ کارروائی کرتے ہوئے 1,037 غیر قانونی کلینکس کو مستقل طور پر سیل کر دیا ہے۔
12 اکتوبر 2026 کو موصول ہونے والے آفیشل میڈیکل لاگز کے مطابق اس گرینڈ انفورسمنٹ مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کریک ڈاؤن کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر سرگرم ہو چکا ہے۔ کمیشن کے ترجمان کے مطابق، ہائی ٹیک ٹیموں نے صوبہ بھر میں 3,457 مشتبہ طبی ٹھکانوں کا آڈٹ اور معائنہ کیا۔ اس گرینڈ آپریشن کا بنیادی مقصد انسدادِ عطائیت کے قوانین کو آٹو لاک کرنا اور بغیر لائسنس کے ادویات پے کرنے والے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کرنا ہے جو ملکی ہیومن انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان سمیت اضلاع کے کلینکس کا آڈٹ
آفیشل ڈیٹا انڈیکس ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور 220 کلینکس سیل ہونے کے ساتھ بلیک لسٹ میں سرفہرست رہا جبکہ گوجرانوالہ میں 111 اور ملتان کوریڈور میں 107 طبی ٹھکانے بند کیے۔
پنجاب کے مختلف ریجنز میں ہونے والے اس کریک ڈاؤن کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| ضلعی مانیٹرنگ لاگ کوڈ | سیل کردہ کلینکس حجم | لازمی ریگولیٹری و سیکیورٹی پروٹوکول رول |
| لاہور میٹرو گرڈ | 220 غیر قانونی کلینکس | پی ایچ سی مینیجرز کے تحت لائیو اسکرٹنی۔ |
| گوجرانوالہ و ملتان ونگ | 111 اور 107 پریمیئسز لاک | مینوئل لوپ ہولز فیز آؤٹ عطائیوں کے خلاف براہِ راست کریک ڈاؤن۔ |
| راولپنڈی و فیصل آباد زون | 64 اور 63 میڈیکل سیٹ اپس | بائیو میٹرک اور سوفٹ وئیر اسکیننگ کے تحت آٹو کٹس لائیو۔ |
| ڈی جی خان، سرگودھا و دیگر | 55 اور 50 مینوفیکچرڈ لاگز | پورٹل پر بلا امتیاز اور پیپر لیس کارروائی فعال۔ |
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ شیخوپورہ میں 35 اور ساہیوال میں 31 کلینکس بھی سیل کیے گئے ہیں اور یہ پراعتماد مہم پورے پنجاب میں لائیو رہے گی تاکہ شہریوں کو جعلی علاج کے خطرات سے بچایا جا سکے۔






