پاکستان کے عدالتی انفراسٹرکچر، صوبائی ریگولیٹری مانیٹرنگ، پبلک سروس ڈیلیوری اور قانونی کوریڈورز سے شہریوں کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اور تیز ترین ریلیف بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پنجاب حکومت نے ایک تاریخی آرڈیننس کے ذریعے باقاعدہ طور پر پنجاب متبادل تنازعات باقاعدہ اتھارٹی قائم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
13 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ آفیشل گزٹ لاگز کے مطابق اس نئے قانونی فریم ورک کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پنجاب متبادل تنازعات باڈی آرڈیننس کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر متحرک ہو چکا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عوام، سرکاری محکموں اور کارپوریٹ اداروں کے مابین جاری لڑائیوں کو عدالتوں سے باہر باہمی مشاورت کے ذریعے کم وقت اور کم ترین لاگت میں آٹو لاک کرنا ہے تاکہ مینوئل التوا اور طویل مقدمات کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب بطور چیئرپرسن اور ریٹائرڈ ججز پینل کا آڈٹ
نئے مینوفیکچرڈ ڈھانچے کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ اس اتھارٹی کے سربراہ (چیئرپرسن) ہوں گے جبکہ ایک مستقل ڈائریکٹر جنرل اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو بطور ممبر اسکواڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔ یہ باڈی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ریٹائرڈ ججز، سابق بیوروکریٹس اور ٹیکسیشن کے ماہرین کو متبادل تصفیہ کاروں کے طور پر وائٹ لسٹ (لائسنس یافتہ) کرے گی۔
پنجاب کی اس نئی قانونی باڈی کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| قانونی اتھارٹی لاگ کوڈ | تفویض کردہ مینوفیکچرڈ پروٹوکول | تزویراتی و عدالتی مانیٹرنگ ہدف |
| اتھارٹی کی قیادت | وزیراعلیٰ پنجاب (چیئرپرسن) | اعلیٰ سطحی انتظامی و سیکیورٹی پروٹوکول رول فعال۔ |
| پینل ممبران و ماہرین | سپریم کورٹ/ہائی کورٹ ریٹائرڈ ججز | سول، کرمنل، کارپوریٹ اور ٹیکس قوانین کی لائیو کٹس۔ |
| تصفیہ کاری کا دائرہ اختیار | حکومت بمقابلہ پبلک و نجی کارپوریٹ | عدالتوں میں زیرِ التوا لاکھوں مقدمات کا دباؤ فیز آؤٹ کرنا۔ |
اتھارٹی سے طے پانے والے تمام فیصلوں کو باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔






