آج بروز پیر،27 اپریل 2026 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زلزلہ، راولپنڈی اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں زلزلے کے شدید جھٹکوں نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر کھلے میدانوں کی طرف نکل آئے۔ سوات، نوشہرہ، شانگلہ اور بونیر سمیت دور دراز کے علاقوں میں بھی زمین لرز اٹھی جس سے کثیر المنزلہ عمارتوں میں موجود افراد کو شدید جھٹکے محسوس ہوئے۔
سیسمک مانیٹرنگ سینٹر (Seismic Monitoring Centre) کے مطابق ریختر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں زلزلے کے جھٹکے کئی سیکنڈ تک جاری رہے جس کے باعث لوگ خوفزدہ ہو کر سڑکوں پر نکل آئے۔ اگرچہ ابھی تک کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی باقاعدہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے تاہم مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔
زلزلے کا مرکز اور ارضیاتی تفصیلات
زلزلہ پیما مرکز کی رپورٹ کے مطابق اس زلزلے کا مرکز افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔ زمین کے اندر اس کی گہرائی 170 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کی گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے سطح زمین پر جھٹکوں کی شدت تو محسوس ہوئی لیکن تباہی کا خدشہ کم رہا۔ تاہم اتنی گہرائی کے باوجود جھٹکے دور دور تک محسوس کیے گئے جو ارضیاتی پلیٹوں کی بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے زلزلوں کے لیے انتہائی حساس بناتا ہے۔ ہمارا ملک انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹس کے سنگم پر واقع ہے جس کی وجہ سے ہمالیہ اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلے اکثر لرزتے رہتے ہیں۔ آج کا زلزلہ بھی اسی ارضیاتی حرکت کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔
پاکستان میں زلزلوں کی تاریخ اور حالیہ لہر
پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران زلزلوں کی تعدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں کراچی اور پھر اسلام آباد میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ اس سے قبل فروری 2026 میں بھی 5.8 شدت کا زلزلہ اسلام آباد، سوات اور ہنزہ میں محسوس کیا گیا تھا۔
ماضی کے تلخ تجربات، جیسے کہ 2005 کا تباہ کن زلزلہ جس میں 73,000 سے زائد اموات ہوئی تھیں شہریوں کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہیں۔ اسی طرح 2021 میں بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں آنے والے زلزلے نے بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔ ماہرینِ ارضیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ پہاڑی علاقوں میں تعمیراتی معیار اور ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری (Preparedness) کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
ہنگامی صورتحال میں احتیاطی تدابیر: این ڈی ایم اے کی ہدایات
زلزلے جیسی قدرتی آفت کی صورت میں گھبرانے کے بجائے درست حکمتِ عملی جان بچانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے شہریوں کے لیے درج ذیل ہدایات جاری کی ہیں:
ڈراپ، کور اور ہولڈ آن: اگر آپ عمارت کے اندر ہیں تو کسی مضبوط میز کے نیچے پناہ لیں اور اسے پکڑ لیں۔
لفٹ کا استعمال نہ کریں: زلزلے کے دوران سیڑھیوں کا استعمال کریں اور لفٹ سے مکمل پرہیز کریں۔
بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں: باہر نکلتے وقت درختوں، بجلی کے تاروں اور خستہ حال دیواروں سے دور کھڑے ہوں۔
گیس اور بجلی کی فراہمی: زلزلے کے بعد گیس کے چولہے اور بجلی کے سوئچ فوراً بند کر دیں تاکہ آگ لگنے کے خطرے سے بچا جا سکے۔
آپ زلزلے کی لائیو اپڈیٹس اور مزید تکنیکی معلومات کے لیے محکمہ موسمیات پاکستان (PMD) کی ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔
مزید الرٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں






