عالمی سطح پر جہاز رانی کے بحران اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود پاکستان سے چاول کی برآمدات میں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران غیر معمولی اور تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان نے چاول کی عالمی منڈی میں ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
ویتنام پر پاکستان کی برتری اور شاندار کارکردگی
ستمبر 2026 میں پاکستان نے روایتی حریف ویتنام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 4 لاکھ 20 ہزار ٹن چاول برآمد کیے جبکہ ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 37 ہزار ٹن رہیں۔ اس شاندار کارکردگی کی بدولت جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں مجموعی حجم 51 فیصد بڑھ گیا۔ مزید برآں پاکستان نے عالمی منڈی میں 621 ڈالر فی ٹن کی اوسط قیمت حاصل کی جو ویتنام کی حاصل کردہ قیمت (563 ڈالر) سے کہیں زیادہ ہے۔
Pakistan’s rice exports have recorded a significant increase despite tensions in the Gulf region and disruptions to international shipping routes #News #RadioPakistan https://t.co/pgCnMN0W2Y https://t.co/UziPU2RBL4
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) November 3, 2026
برآمدات میں ریکارڈ اضافے کی بنیادی وجوہات
ماہرین کے مطابق اس معاشی کامیابی کی بنیادی وجہ ملک میں چاول کی زیرِ کاشت زمین میں 18 سے 20 فیصد تک کا نمایاں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ پچھلے سال کے اسٹاک کی دستیابی، کھاد کی آسان فراہمی اور فلپائن جیسے نئے ممالک کی جانب سے باسمتی چاول کی مسلسل بڑھتی ہوئی مانگ نے اس ریکارڈ نمو میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ فری مارکیٹ پالیسیوں اور نجی شعبے کی آزادانہ تجارت نے برآمد کنندگان کو عالمی سطح پر مسابقت کا بھرپور موقع فراہم کیا ہے۔






