قومی مینوفیکچرڈ انفراسٹرکچر، جیو پولیٹیکل فنانسنگ کلاؤڈ، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور وزارتِ توانائی کے تزویراتی کوریڈورز سے ملکی فیسکل خسارے کی مانیٹرنگ کا سب سے بڑا اور ہولناک ترین اقتصادی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیے گئے آفیشل فنانشل لاگز کے مطابق پاکستان میں پاور اور گیس کے شعبوں کا مجموعی گردشی قرضہ اڑان بھرتے ہوئے 5,306 ارب (5.3 ٹریلین) روپے کے ریکارڈ حجم پر پہنچ گیا ہے۔
20 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ پارلیمانی ڈیٹا بیس کے مطابق اس شدید مالی بحران کے سامنے آتے ہی باقاعدہ طور پر پاکستان بجلی گیس گردشی قرضہ ریکارڈ اضافہ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق 30 جون 2026 تک بجلی کا گردشی قرضہ 1,675 ارب روپے تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 ارب روپے کا لائیو فیسکل اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ حکام نے اس گروتھ اسکور کی بنیادی وجہ کے-الیکٹرک کے ذمہ واجب الادا واجبات کی عدم ادائیگی قرار دیا ہے جس کا کیس ریگولیٹری عدالتوں میں التوا کا شکار ہے مالیاتی لوپ ہولز کو ہالٹ کرنے کے لیے اب آئی پی پیز کے ساتھ فرسودہ معاہدوں کو منسوخ کر کے ہائبرڈ ٹیک اینڈ پے ماڈل پر آٹو لاک کیا جا رہا ہے جو پاور انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے اولین ترجیح مانا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن ڈیٹا، ہائیڈرو کاربن ذخائر اور لیٹ پیمنٹ سرچارج کا آڈٹ
پٹرولیم ڈویژن کے مطابق گیس کا گردشی قرضہ ایک سال میں 344 ارب روپے کی خوفناک تیزی کے ساتھ 3,631 ارب روپے کی سطح پر سنک ہوا ہے جس میں 1,783 ارب روپے محض لیٹ پیمنٹ سرچارجز کے کلاؤڈ لاگز پر الائن ہیں۔
توانائی کے شعبوں کے فیسکل حجم اور ملکی ہائیڈرو کاربن کٹس کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| انرجی پراجیکٹ لاگ کوڈ | مقررہ گردشی قرضہ فیسکل حجم | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| گیس شعبہ گردشی قرضہ | 3,631 ارب پاکستانی روپے | سالانہ بنیادوں پر 344 ارب روپے کا پراعتماد ترین اضافہ ریکارڈ۔ |
| پاور شعبہ گردشی قرضہ | 1,675 ارب روپے پر آٹو لاک | کے الیکٹرک بقایا جات اور آئی پی پیز کے فرسودہ ماڈلز ہالٹ۔ |
| گیس و تیل ذخائر کلاؤڈ | 68,803 قابلِ بحالی گیس | 48,140 بی سی ایف گیس پلس 1,102 ملین بیرل خام تیل لائیو پروڈکشن۔ |
اسمبلی کو بتایا گیا کہ ڈی آئی خان کے 15 دیہات تاحال بجلی کٹس سے محروم ہیں جن کی الائنمنٹ فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہے۔






