صوبائی بلدیاتی انفراسٹرکچر، ہیلتھ کیئر لاجسٹکس، پبلک سروس ڈیلیوری اور وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ کے تزویراتی کوریڈورز سے سرکاری عمارات کی خستہ حالی کا سب سے بڑا اور افسوسناک ترین حادثاتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ لاڑکانہ میں قائم چانڈکا میڈیکل کالج ٹیچنگ ہسپتال کے وارڈ کی چھت کا ایک بڑا حصہ اچانک منہدم ہونے سے ایک معمر مریضہ اور ان کے خاندان کی 3 خواتین شدید زخمی ہو گئی ہیں۔
20 اکتوبر 2026 کو سندھ کے ہیلتھ لاگز پر لائیو سنک ہونے والے مانیٹرنگ ڈیٹا کے مطابق اس حادثے کے منظرِ عام پر آتے ہی باقاعدہ طور پر لاڑکانہ ہسپتال چھت گرنے حادثہ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر سرگرم ہو چکا ہے۔ ہسپتال کے گیسٹرو اینٹرولوجی جگر اور آنتوں کے امراض کے وارڈ میں آر سی سی پلاسٹر اور فالز سیلنگ کا ایک بھاری حصہ نیچے کھڑے تیمارداروں پر گر گیا۔ زخمیوں کی شناخت پٹھانی خاتون، ان کی بیٹیوں روزینہ و روبینہ اور بہو حضوراں خاتون کے نام سے ہوئی ہے جو لوہار کالونی لاڑکانہ کی رہائشی ہیں۔ ہسپتال کے عملے نے مینوئل التوا یکسر بلاک کر کے زخمیوں کو فوری طور پر لاڑکانہ ٹروما سینٹر منتقل کیا جو ہنگامی طبی کٹس پے کرنے کے لیے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
ہسپتال انفراسٹرکچر، لاڑکانہ ٹروما سینٹر اور خستہ حال عمارات کا آڈٹ
| ہیلتھ پراجیکٹ لاگ کوڈ | منظور شدہ متاثرہ حجم اشارے | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| چانڈکا ہسپتال وارڈ | گیسٹرو پلاسٹر منہدم گرڈ | فرنیچر اور میڈیکل بیڈز ملبے تلے دب کر شدید تباہ۔ |
| ٹروما سینٹر مانیٹرنگ | 04 خواتین شدید زخمی لاک | پیپر لیس موڈ کے بجائے لائیو ہنگامی سرجری کٹس الائن۔ |
| انفراسٹرکچر آڈٹ | خستہ حال سرکاری عمارات | مینوئل التوا فیز آؤٹ سندھ حکومت سے تعمیرِ نو کی اپیل۔ |
وارڈ میں چھت گرنے کے دھماکے سے شدید افراتفری مچ گئی اور ملبے کی زد میں آ کر کئی بیڈز اور فرنیچر کی کٹس تباہ ہو گئیں۔ پٹھانی خاتون کے رشتہ دار ایڈوکیٹ عبدالحفیظ چاوڑو نے میڈیا لاگز کے سامنے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حادثات کو روکنے کے لیے ہسپتال کی مینوفیکچرڈ عمارات کا فوری آڈٹ کرائے۔ہسپتال کے حادثاتی پیرامیٹرز اور دستاویزی لاگز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق آٹو لاک ہے:






