آج 29 اپریل 2026 ہے اور پاکستان میں 10cc سرنج پر پابندی کے تحت محکمہ صحت نے متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور انقلابی فیصلہ کیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے باضابطہ طور پر روایتی (Conventional) 10 سی سی سرنجوں کی فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ملک میں ہیپاٹائٹس بی، سی اور ایچ آئی وی (HIV) جیسے خون کے ذریعے پھیلنے والے مہلک امراض پر قابو پانا ہے جو اکثر طبی آلات کے دوبارہ استعمال کی وجہ سے پھیلتے ہیں۔
پاکستان کی وفاقی حکومت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعلامیے کے مطابق اب ملک بھر کے تمام اسپتالوں، کلینکس اور فارمیسیوں پر صرف Auto-Disable (AD) سرنجوں کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ اقدام صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا کیونکہ روایتی سرنجوں کا غیر قانونی دوبارہ استعمال اب تک لاکھوں مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا رہا ہے۔
پاکستان میں 10 سی سی سرنج پر پابندی کی فوری ضرورت کیوں؟
اس پابندی کی سب سے بڑی وجہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال (Reuse) ہے۔ غیر منظم طبی مراکز اور غیر مستند معالجین (Quacks) اکثر استعمال شدہ سرنجوں کو دھو کر یا دوبارہ پیک کر کے استعمال کرتے ہیں جس سے انفیکشن ایک مریض سے دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فی کس انجکشن لگوانے کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور بدقسمتی سے ان میں سے ایک بڑی تعداد غیر محفوظ طریقے سے لگائی جاتی ہے۔
سرنجوں کے دوبارہ استعمال کو روکنے کے لیے ڈریپ (DRAP) نے یہ سخت فیصلہ کیا ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور طبی نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔
آٹو ڈس ایبل (AD) ٹیکنالوجی کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟
بہت سے شہری یہ سوال کر رہے ہیں کہ نئی سرنجیں پرانی سرنجوں سے مختلف کیسے ہیں؟ دراصل آٹو ڈس ایبل (AD) سرنج ایک خاص اندرونی میکانزم کے ساتھ تیار کی جاتی ہے:
سیفٹی لاک: ایک بار جب دوا مریض کے جسم میں منتقل ہو جاتی ہے، تو سرنج کا پلنجر (Plunger) خود بخود لاک ہو جاتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے۔
دوبارہ استعمال ناممکن: اس لاک کی وجہ سے پلنجر کو دوبارہ پیچھے نہیں کھینچا جا سکتا۔ یعنی اگر کوئی اسے دھو کر دوبارہ استعمال کرنے کی کوشش بھی کرے، تو سرنج کام نہیں کرے گی۔
World Health Organization (WHO) کی گائیڈ لائنز کے مطابق انجکشن کی حفاظت کے لیے یہ دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی ہے۔
سرنج خریدنے سے پہلے ان 4 چیزوں کو لازمی چیک کریں
نفاذ کے بعد بطور صارف آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ فارمیسی سے سرنج خریدتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
‘AD’ مارک: سرنج کے ریپر (پیکنگ) پر واضح طور پر "Auto-Disable” یا "AD” لکھا ہوا دیکھیں۔
پلنجر کا معائنہ: چیک کریں کہ سرنج کے اندر پلنجر پر مخصوص لاکنگ ربز (Ribs) موجود ہوں۔
ڈریپ رجسٹریشن: اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرنج بنانے والی کمپنی DRAP سے رجسٹرڈ ہے۔
سیل کی جانچ: اگر سرنج کا کاغذ یا پلاسٹک والا حصہ پھٹا ہوا ہو یا اس پر نمی ہو تو اسے ہرگز قبول نہ کریں۔
عوامی صحت اور طبی صنعت پر اس فیصلے کے اثرات
اگرچہ آٹو ڈس ایبل سرنجوں کی تیاری کی لاگت روایتی سرنجوں کے مقابلے میں تھوڑی زیادہ ہے لیکن اس کے فوائد بے شمار ہیں۔ ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی جیسے امراض کے علاج پر قوم کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس پابندی سے ان بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی، جس سے طویل مدتی بنیادوں پر ملکی معیشت پر بوجھ کم ہوگا۔ وزارتِ صحت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر نجی کلینکس کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا سکے۔
مزید تازہ خبروں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






