پاکستان میں ماضی کے روایتی نظام کے تحت کسی فوت ہو جانے والے شخص کی منقولہ (Movables) یا غیر منقولہ (Immovables) جائیداد کو قانونی وارثوں میں منتقل کرنے کے لیے عدالتوں سے جانشینی سرٹیفکیٹ یا سکسیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑتا تھا۔ اس عدالتی عمل میں سالوں لگ جاتے تھے اور غریب خاندانوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم حکومت پاکستان اور نادرا (NADRA) نے "لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹس ایکٹ” کے تحت اس عمل کو انتہائی آسان، شفاف اور تیز رفتار بنا دیا ہے۔ اب آپ چند ہفتوں میں ڈیجیٹل نادرا سکسیشن سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
اگر آپ اپنے خاندان کی وراثتی جائیداد، بینک اکاؤنٹس یا گاڑیوں کی منتقلی کے لیے یہ سرٹیفکیٹ بنوانا چاہتے ہیں تو ذیل میں اس کا مکمل، قانونی اور مرحلہ وار طریقہ کار فراہم کیا گیا ہے۔
نادرا سکسیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے اہلیت کا معیار اور بنیادی شرائط
نادرا سے ڈیجیٹل جانشینی سرٹیفکیٹ صرف اسی صورت میں جاری کیا جا سکتا ہے جب تمام قانونی وارثوں کے درمیان جائیداد کی تقسیم کو لے کر کوئی تنازع نہ ہو۔
باہمی رضامندی: تمام وارثین کا متفق ہونا لازمی ہے۔ اگر کسی ایک وارث کو بھی اعتراض ہو تو نادرا کیس کو مسترد کر کے عدالت بھیج دیتا ہے۔
مرحوم کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ: متوفی (فوت ہو جانے والے شخص) کا نادرا کا کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے۔
وارثین کے شناختی کارڈ: تمام زندہ قانونی وارثوں کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (CNIC) یا سمارٹ کارڈ ہونا ضروری ہے۔
جانشینی سرٹیفکیٹ کے لیے ضروری دستاویزات
نادرا سسکسیشن سہولت مرکز (Succession Facilitation Center) جانے سے پہلے درج ذیل دستاویزات کی تیاری مکمل کر لیں:
فوت ہو جانے والے شخص کا اصل نادرا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ کی کاپی۔
تمام قانونی وارثوں کے شناختی کارڈ کی کاپیاں۔
مرحوم کا شجرہ نسب یعنی فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC)۔
جائیداد کے ثبوت: منقولہ جائیداد کے لیے بینک اسٹیٹمنٹ، نیشنل سیونگز سرٹیفکیٹس، گاڑی کی رجسٹریشن بک وغیرہ۔ غیر منقولہ جائیداد کے لیے زمین کی فرد، رجسٹری، یا الاٹمنٹ لیٹر۔
ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا مرحلہ وار طریقہ کار
نادرا سے سرٹیفکیٹ کے حصول کا عمل درج ذیل 5 آسان مراحل پر مشتمل ہے:
درخواست کا اندراج
متوفی کا کوئی بھی ایک قانونی وارث (جسے تمام وارثوں کی تائید حاصل ہو) نادرا کے مخصوص سکسیشن سینٹر جائے گا۔ وہاں وہ تمام ضروری دستاویزات اور جائیداد کی تفصیلات فراہم کر کے درخواست جمع کرائے گا۔
بائیو میٹرک تصدیق
درخواست جمع ہونے کے بعد نادرا کی جانب سے تمام قانونی وارثوں کو بائیو میٹرک تصدیق کے لیے بلایا جائے گا۔ اگر کوئی وارث پاکستان کے کسی دوسرے شہر میں ہے تو وہ اپنے قریبی نادرا سینٹر جا کر تصدیق کرا سکتا ہے۔ بیرون ملک مقیم وارثین نادرا کے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنی انگلیوں کے نشانات کی ڈیجیٹل تصدیق کر سکتے ہیں۔
عوامی اشتہار
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نادرا ایک معروف اخبار میں اشتہار شائع کرواتا ہے۔ اس اشتہار کا مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا کوئی ایسا شخص تو موجود نہیں جو خود کو مرحوم کا وارث قرار دے رہا ہو لیکن اس کا نام درخواست میں شامل نہ ہو۔ اس اشتہار کے بعد عوام کو اعتراض جمع کرانے کے لیے 14 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔
فیس کی ادائیگی اور حتمی پروسیسنگ
اگر 14 دن کے اندر کوئی اعتراض موصول نہ ہو تو نادرا کیس کو فائنل کر دیتا ہے۔ نادرا سکسیشن سرٹیفکیٹ کی سرکاری فیس جائیداد کی مالیت کے حساب سے مقرر ہے:
اگر جائیداد کی کل مالیت 100,000 (ایک لاکھ) روپے سے زیادہ ہو تو فیس 20,000 روپے ہے۔
اگر جائیداد کی مالیت ایک لاکھ روپے سے کم ہو تو فیس 10,000 روپے ہے۔
ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کا حصول (Issuance)
تمام مراحل کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد نادرا ڈیجیٹل سکسیشن سرٹیفکیٹ جاری کر دیتا ہے۔ اس سرٹیفکیٹ پر کیو آر کوڈ (QR Code) موجود ہوتا ہے جس کے ذریعے کوئی بھی ادارہ (جیسے بینک یا محکمہ مال) اس کی تصدیق فوری طور پر آن لائن کر سکتا ہے۔






