حکومتِ سندھ نے صوبے کے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو مزید مضبوط اور وسیع کرتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت لاڑکانہ سے قمبر پیپلز بس سروس کے ایک نئے اور خصوصی روٹ کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر اور وزیرِ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انام میمن کی زیرِ صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس نئے انٹر سٹی روٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد لاڑکانہ اور قمبر شہداد کوٹ کے اضلاع کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں، دیہاڑی دار ملازمین، تاجروں اور طلبہ کو سستی، محفوظ اور بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم اس نئے سفری منصوبے کی خصوصیات، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اور عام عوام کو پہنچنے والے معاشی و سماجی فوائد کا مکمل احاطہ کریں گے۔
لاڑکانہ سے قمبر پیپلز بس سروس کا باقاعدہ آغاز اور پسِ منظر
محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ سندھ کے حالیہ اجلاس میں صوبے بھر میں جاری ٹرانسپورٹ منصوبوں بشمول ڈبل ڈیکر بسوں، الیکٹرک وہیکل (EV) ٹیکسیوں اور گرین و اورنج لائن آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسی اجلاس کے دوران صوبائی وزیر نے حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ لاڑکانہ سے قمبر پیپلز بس سروس کے روٹ کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کیا جائے تاکہ دونوں اضلاع کے مابین فاصلے اور سفری مشکلات کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
یہ نیا روٹ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (SMTA) کے فلیگ شپ منصوبے "پیپلز بس سروس” کا حصہ ہے جو پہلے ہی کراچی اور لاڑکانہ کے اندرونی روٹس پر کامیابی سے چل رہی ہے۔ اب اس نیٹ ورک کو کثیر آبادی والے بین الاضلاعی کلسٹرز کو آپس میں جوڑنے کے لیے پھیلایا جا رہا ہے تاکہ دیہی سندھ کو بھی جدید پبلک ٹرانسپورٹ میسر ہو۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل اور آپریٹنگ حکمتِ عملی
سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو خود کفیل اور پائیدار بنانے کے لیے ایک جدید کاروباری حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انام میمن کے مطابق اس نئے ماڈل کے تحت:
روٹس کی نیلامی: خصوصی بس روٹس کو شفاف مسابقتی عمل یا نیلامی کے ذریعے نجی سرمایہ کار کمپنیوں اور افراد کے حوالے کیا جائے گا۔
جدید ای وی اور ہائبرڈ بسیں: ان روٹس پر جدید، ماحول دوست اور ایئر کنڈیشنڈ الیکٹرک (EV) بسیں چلائی جائیں گی جس سے کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی۔
بنیادی ڈھانچہ: سندھ حکومت آپریٹرز کو بس اسٹاپس اور سڑکوں کا موجودہ انفراسٹرکچر فراہم کرے گی جبکہ بسوں کی دیکھ بھال نجی شعبہ کرے گا۔
کرایوں پر سرکاری کنٹرول: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے باوجود کرائے مکمل طور پر حکومتِ سندھ کے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق ہوں گے تاکہ غریب عوام پر بوجھ نہ پڑے۔
جدید بسوں کی خصوصیات اور عوامی سہولیات
اس روٹ پر چلائی جانے والی لگژری بسیں اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ ان بسوں میں مسافروں کے لیے درج ذیل بین الاقوامی سہولیات فراہم کی گئی ہیں:
مکمل ایئر کنڈیشنڈ (AC): سندھ کی شدید گرمی کے موسم میں مسافروں کو آرام دہ اور ٹھنڈا ماحول فراہم کرنے کے لیے بسیں فلی ایئر کنڈیشنڈ ہیں۔
سیکیورٹی اور وائی فائی: تمام بسوں میں مفت انٹرنیٹ اور سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے ہائی ڈیفینیشن سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے نصب ہیں۔
معذور افراد اور خواتین کا کوٹہ: بسوں میں خواتین اور خصوصی افراد (Disabled Persons) کے لیے خصوصی نشستیں مخصوص کی گئی ہیں اور ان کے لیے وہیل چیئر ریمپ اور خودکار دروازے بھی موجود ہیں۔
ڈیجیٹل ٹریکنگ ایپ: مسافر سمارٹ فونز کے لیے دستیاب پیپلز بس سروس موبائل ایپ کے ذریعے بس کی لائیو لوکیشن اور آمد کا وقت بھی دیکھ سکتے ہیں۔
اس نئے روٹ کے معاشی اور سماجی فوائد
لاڑکانہ اور قمبر کے اضلاع جغرافیائی اور کاروباری لحاظ سے ایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس سرکاری بس سروس کے آغاز سے مقامی سطح پر نمایاں تبدیلیاں آئیں گی:
سستے سفر کی سہولت: نجی ویگنوں اور چنگچی رکشوں کے مہنگے، غیر آرام دہ اور غیر محفوظ سفر کے مقابلے میں پیپلز بس سروس کا کرایہ انتہائی مناسب ہوگا۔
روزگار اور تعلیم تک رسائی: قمبر سے لاڑکانہ کے تعلیمی اداروں (جیسے چانڈکا میڈیکل کالج یا یونیورسٹی) میں آنے والے طلبہ اور روزانہ ڈیوٹی پر آنے والے سرکاری و نجی ملازمین اب وقت پر اور محفوظ طریقے سے اپنی منزل پر پہنچ سکیں گے۔
خواتین کا تحفظ: پبلک ٹرانسپورٹ میں علیحدہ سیکشن ہونے کی وجہ سے خواتین اور طالبات بغیر کسی پریشانی یا ہراسانی کے خوف کے اکیلے سفر کر سکیں گی
سندھ حکومت کا یہ اقدام صوبے کے مضافاتی علاقوں کو جدید سفری نیٹ ورک سے جوڑنے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے جو پسماندہ اضلاع کی معاشی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کا باعث بنے






