لاہور کے تاریخی شاہی قلعہ میں ثقافتی ورثے کے تحفظ اور سیاحت کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے جہاں اکبری گیٹ اور کیوریٹرز ہاؤس کی بحالی کے کام کا باقاعدہ سافٹ لانچ کر دیا گیا ہے۔ یہ بحالی منصوبہ ‘ہیریٹیج اینڈ اربن ری جنریشن ٹورزم ڈویلپمنٹ ان لاہور فورٹ’ (HURL) کا حصہ ہے جس کا آغاز 2026 میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی (جو اب پنجاب والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹیج ایریاز اتھارٹی یعنی PWCA کہلاتی ہے) اور فرانسیسی ترقیاتی ادارے (AFD) کے مشترکہ تعاون سے ہوا تھا۔
اس منصوبے کو پی ڈبلیو سی اے (PWCA) کے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ اور آغا خان کلچرل سروس پاکستان (AKCS-P) نے مشترکہ طور پر پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ افتتاح کی اس پروقار تقریب میں فرانسیسی ادارے (AFD) کی پروجیکٹ مینیجر جولیٹ لے پینیرر، اربن ڈویلپمنٹ ماہر احسن پراچہ اور پروجیکٹ ڈائریکٹر تنویر ساہو سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی اور ربن کاٹ کر دونوں یادگاروں کا افتتاح کیا۔
افتتاحی تقریب کے دوران پہلی دستاویزی یادگار کیوریٹرز ہاؤس کا افتتاح کیا گیا۔ برطانوی دورِ حکومت میں تعمیر کی جانے والی یہ عمارت شروع میں قلعے کے سیکیورٹی گارڈ روم کے طور پر استعمال ہوتی تھی اور بعد میں اسے انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ حال ہی میں یہ عمارت دو حصوں میں منقسم تھی جہاں مقامی رہائشی مقیم تھے اور کمروں کے درمیان کئی عارضی دیواریں کھڑی کر دی گئی تھیں۔ ڈائریکٹر جنرل PWCA نجم الثاقب نے اعلان کیا ہے کہ شاہی قلعہ کے اکبری گیٹ کی بحالی کے بعد اب اس تاریخی کیوریٹرز ہاؤس کو ایک خوبصورت ریستورنٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے جو یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے ایک نئی اور پرکشش تفریحی جگہ بنے گا۔
اندرون شہر کا شاہی قلعے سے دوبارہ رابطہ
اس منصوبے کا دوسرا اور سب سے اہم حصہ اکبری گیٹ کی مکمل بحالی ہے۔ مغل دور کا یہ تاریخی دروازہ شاہی قلعہ کے اہم ترین راستوں میں سے ایک تھا جسے برطانوی راج کے دوران عام عوام کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ اب اس کی تاریخی شان و شوکت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی مرمت اور تحفظ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور جلد ہی یہاں ایک جدید ٹکٹنگ بوتھ بھی قائم کیا جائے گا۔
اس اقدام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اندرونِ شہر کے رہائشیوں اور عام سیاحوں کا شاہی قلعہ سے کٹ جانے والا پرانا رابطہ دوبارہ بحال ہو جائے گا۔ آغا خان کلچرل سروس کے سی ای او توصیف خواجہ کا کہنا تھا کہ ان کے تکنیکی عملے نے اس تاریخی ورثے کو بچانے کے لیے دن رات محنت کی ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف ثقافتی مقامات کو تحفظ ملے گا بلکہ مقامی لوگوں کے لیے پائیدار معاشی اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ افتتاحی ٹیم نے قلعے کے اندر اکبری محل، کالا برج اور برطانوی بیرکوں کا بھی دورہ کیا تاکہ وہاں جاری دیگر بحالی کے کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔






