صوبائی معاشی انفراسٹرکچر، مائننگ ریگولیٹری فریم ورکس، پبلک ڈیلیوری اور وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ کے تزویراتی کوریڈورز سے خیبر پختونخوا معدنیات فنڈز سرمایہ کاری منصوبہ سب سے بڑا اور پراعتماد ترین کاروباری بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی معدنیات، تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کو لائیو نکالنے کے لیے ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کو جوائنٹ وینچرز (مشترکہ کاروباری شراکت داری) کی باقاعدہ دعوت دی ہے۔
19 اکتوبر 2026 کو پشاور مانیٹرنگ پورٹلز پر لائیو سنک ہونے والے لاگز کے مطابق صوبے میں صدارتی احکامات کے تحت گورنر راج کے نفاذ کے ایک ہفتے بعد باقاعدہ طور پر پختونخوا معدنیات فنڈز سرمایہ کاری منصوبہ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر فعال ہو چکا ہے۔ 11 رکنی مشاورتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے گورنر نے واضح کیا کہ مائنز اینڈ منرلز کا پورٹ فولیو ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو پے کیا گیا ہے تاکہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں سامنے آنے والی 16.94 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور 8 ارب روپے کی غیر قانونی مائننگ کے مینوئل لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔ اسمارٹ پلان کے تحت 10 سے 12 دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع کو ماڈل پیس ڈسٹرکٹس کے طور پر آٹو لاک کیا جائے گا جو ملکی جی ڈی پی انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے اولین ترجیح مانا گیا ہے۔
آئینی آرٹیکلز، سیکیورٹی انڈیکس اور آڈیٹر جنرل رپورٹ کا آڈٹ
صوبے کا انتظامی کنٹرول آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی منظوری سے کلاؤڈ پر منتقل ہوا ہے۔ مانیٹرنگ کٹس کے مطابق پاکستان کے 8 ٹریلین ڈالر مالیت کے 92 معلوم ذخائر میں سے 52 تجارتی سطح پر لائیو سنک ہیں جن کا تفصیلی آڈٹ کیا جا رہا ہے۔
معدنیاتی پراجیکٹس کے فیسکل حجم اور تزویراتی لاگز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| صوبائی مائننگ لاگ کوڈ | منظور شدہ فیسکل و سیکیورٹی حجم | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| جوائنٹ وینچرز گرڈ | مقامی پلس فارن کارپوریٹ کٹس | روزگار کی فراہمی اور مقامی معاشی نظام کی لائیو بحالی پر آٹو لاک۔ |
| منرل ڈیپارٹمنٹ آڈٹ | 16.94 ارب روپے کی بے ضابطگیاں | غیر قانونی مائننگ بلاک کرنے کے لیے ہائی ٹیک لائیو کیمرہ اسکرٹنی فعال۔ |
| ماڈل پیس اضلاع کلاؤڈ | 10 تا 12 متاثرہ اضلاع کا انتخاب | پولیس فورس میں بھاری فنڈز ان پٹ پلس پیپر لیس سیکیورٹی موڈ الائن۔ |






