صوبائی عدالتی انفراسٹرکچر، کرمنل جسٹس ایڈمنسٹریشن، پبلک سیفٹی لاجسٹکس اور وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ کے تزویراتی کوریڈورز سے اینٹی نارکوٹکس نافذ کرنے والے اداروں کا ہنگامی اور بڑا عدالتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ کراچی کی بدنام زمانہ مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ تھانے میں درج مقدمے سے غیر مشروط خلاصی کے لیے سیشن کورٹ میں باقاعدہ اپیل دائر کر دی ہے۔
13 اکتوبر 2026 کو موصول ہونے والے آفیشل کرمنل لاگز کے مطابق اس جوڈیشل انٹرسیپٹ کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر انمول پنکی منشیات کیس بریت درخواست کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے۔ ملزمہ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265 کے تحت دائر درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ استغاثہ کے پاس اسے سزا دلانے کے لیے کوئی ٹھوس ڈیجیٹل یا مینوفیکچرڈ شواہد موجود نہیں ہیں۔ سیشن کورٹ نے درخواست کو ڈیش بورڈ پر سنک کرتے ہوئے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر اور ریاستی وکیل کو اگلی سماعت پر لائیو جواب جمع کرانے کے لیے آفیشل نوٹسز جاری کر دیے ہیں تاکہ مینوئل التوا کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
سابقہ بریت ہسٹری اور مفرور سہولت کاروں کا آڈٹ
سماعت کے دوران دفاعی کونسل میر ہدایت اللہ نے پینل کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ انمول کو اگست میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سال 2020، 2021 اور 2022 کے تین گیزری تھانے کے مقدمات سے وائٹ لسٹ کیا تھا کیونکہ شریک ملزمان علی اور فہمیدہ 2024 میں بری ہو چکے تھے۔
اس ہائی پروفائل نارکوٹکس ٹرائل کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق آٹو لاک ہے:
| جوڈیشل کیس لاگ کوڈ | متعلقہ پولیس اسٹیشن ونگ | قانونی ایکشن پروٹوکول رول |
| دفعہ 265 پٹیشن | کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ | شواہد کی عدم موجودگی پر آٹو لاک بریت کی استدعا۔ |
| سابقہ کرمنل لاگز | گیزری تھانہ (2020 تا 2022 کیسز) | مفرور قرار دیے جانے کے باوجود ناکافی ثبوت پر بریت حاصل۔ |
| شریک مفرور نیٹ ورک | سی ٹی ڈی کیس کے 02 سہولت کار | ضمانت حاصل کرنے کے بعد پیپر لیس موڈ میں لائیو روپوش۔ |
پراسیکیوشن مینیجرز کے مطابق اس کیس کے دو نامزد سہولت کار ضمانت ملنے کے بعد اوپن مارکیٹ سے یکسر روپوش ہو چکے ہیں۔






